پہلے کبھی نہیں ہوا اس بار ہو گیا
پہلی نظر میں اس سے مجھے پیار ہو گیا
دن بھر ہمارا وقت کٹے گا خوشی خوشی
قسمت سے آج آپ کا دیدار ہو گیا
دنیا پسند آ ہی گئی آخرش اسے
مانوس تھا جو مجھ سے وہ بیزار ہو گیا
یارا تمہارے بول سدا ڈھال تھے مِری
آخر تمہارا لہجہ بھی تلوار ہو گیا
یہ آنکھیں تیری میری ہوئیں دو سے چار کیا
انجانی کشمکش سے میں دوچار ہو گیا
فکرِ معاش مار گئی اس غریب کو
یہ اچھا خاصا آدمی بے کار ہو گیا
عمران سچا پیار بھی ہوتا ہے ایک بار
ہو گا نہیں دوبارہ جو اک بار ہو گیا
عمران سرگانی
No comments:
Post a Comment