دیکھ موہن تِری کمر کی طرف
پھر گیا مانی اپنے گھر کی طرف
جن نے دیکھے تِرے لبِ شیریں
نظر ان کی نہیں شکر کی طرف
ہے محال ان کا دام میں آنا
دل ہے ان سب بتاں کا زر کی طرف
دیکھ موہن تِری کمر کی طرف
پھر گیا مانی اپنے گھر کی طرف
جن نے دیکھے تِرے لبِ شیریں
نظر ان کی نہیں شکر کی طرف
ہے محال ان کا دام میں آنا
دل ہے ان سب بتاں کا زر کی طرف
معشوق مل کر آپ سے گر دلبری کرے
گر دیو ہو تو چاہیے آدم گری کرے
شیشہ اسی کے آگے بجا ہے کہ رُخ ستی
پیالے کو جب لے ہاتھ میں رشک پری کرے
اس قد سے جب چمن میں خراماں ہو تو اے جاں
شمشاد و سرو آگے تِری چاکری کرے
دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو
جیتے جی ڈھونڈے سو پاوے خبر کرو بے خبروں کو
توشک بالا پوش رضائی ہے بھولے مجنوں برسوں تک
جب دِکھلاوے زُلف سجن کی بن میں آوتے ابروں کو
کافر نفس ہر ایک کا ترسا زر کوں پایا بختوں سیں
آتش کی پوجا میں گزری عمر تمام ان گبروں کو
جرم عاشق کا اب معاف کرو
دم لوٹک تیغ کوں غلاف کرو
ظلم کی مشق کب تلک پیارے
مؤقلم کر کے خط کوں صاف کرو
کان ہر ایک کے در کی جوں نہ لگے
ہم میں دو حرف واشگاف کرو
یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں
کہے تھے مردم شرابی ان کوں نکل گئیں اپنی دے غلطیاں
سوائے گل کے وہ شوخ انکھیاں کسی طرف کو نہیں ہیں راغب
تو برگِ نرگس اوپر بجا ہے لکھوں جو اپنے سجن کوں پتیاں
صنم کی زلفاں کو ہجر میں اب گئے ہیں مجھ نین ہیں خواب راحت
لگے ہے کانٹا نظر میں سونا،۔ کٹیں گی کیسے یہ کالی رتیاں
کمر کی بات سنتے ہیں; یہ کچھ پائی نہیں جاتی
کہے ہیں بات ایسی خیال میں میرے نہیں آتی
جو چاہو سیر دریا وقف ہے مجھ چشم کی کشتی
ہر ایک مُوئے پلک میرا ہے گویا گھاٹ خیراتی
برنگ اس کے نہیں محبوب دل رونے کو عاشق کے
سعادت خاں ہے لڑکا، وضع کر لیتا ہے برساتی
اے صبا کہہ بہار کی باتیں
اس بتِ گل عذار کی باتیں
کس پہ چھوڑے نگاہ کا شہباز
کیا کرے ہے شکار کی باتیں
مہربانی سیں یا ہوں غصے سیں
پیاری لگتی ہیں یار کی باتیں