Showing posts with label ناجی شاکر. Show all posts
Showing posts with label ناجی شاکر. Show all posts

Friday, 11 November 2022

دیکھ موہن تری کمر کی طرف

 دیکھ موہن تِری کمر کی طرف

پھر گیا مانی اپنے گھر کی طرف

جن نے دیکھے تِرے لبِ شیریں

نظر ان کی نہیں شکر کی طرف

ہے محال ان کا دام میں آنا

دل ہے ان سب بتاں کا زر کی طرف

Monday, 3 October 2022

معشوق مل کر آپ سے گر دلبری کرے

 معشوق مل کر آپ سے گر دلبری کرے

گر دیو ہو تو چاہیے آدم گری کرے

شیشہ اسی کے آگے بجا ہے کہ رُخ ستی

پیالے کو جب لے ہاتھ میں رشک پری کرے

اس قد سے جب چمن میں خراماں ہو تو اے جاں

شمشاد و سرو آگے تِری چاکری کرے

Saturday, 1 October 2022

دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو

 دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو

جیتے جی ڈھونڈے سو پاوے خبر کرو بے خبروں کو

توشک بالا پوش رضائی ہے بھولے مجنوں برسوں تک

جب دِکھلاوے زُلف سجن کی بن میں آوتے ابروں کو

کافر نفس ہر ایک کا ترسا زر کوں پایا بختوں سیں

آتش کی پوجا میں گزری عمر تمام ان گبروں کو

Friday, 30 September 2022

جرم عاشق کا اب معاف کرو

 جرم عاشق کا اب معاف کرو

دم لوٹک تیغ کوں غلاف کرو

ظلم کی مشق کب تلک پیارے

مؤقلم کر کے خط کوں صاف کرو

کان ہر ایک کے در کی جوں نہ لگے

ہم میں دو حرف واشگاف کرو

Tuesday, 19 April 2022

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں

کہے تھے مردم شرابی ان کوں نکل گئیں اپنی دے غلطیاں

سوائے گل کے وہ شوخ انکھیاں کسی طرف کو نہیں ہیں راغب

تو برگِ نرگس اوپر بجا ہے لکھوں جو اپنے سجن کوں پتیاں

صنم کی زلفاں کو ہجر میں اب گئے ہیں مجھ نین ہیں خواب راحت

لگے ہے کانٹا نظر میں سونا،۔ کٹیں گی کیسے یہ کالی رتیاں

Saturday, 16 April 2022

کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی

کمر کی بات سنتے ہیں; یہ کچھ پائی نہیں جاتی

کہے ہیں بات ایسی خیال میں میرے نہیں آتی

جو چاہو سیر دریا وقف ہے مجھ چشم کی کشتی

ہر ایک مُوئے پلک میرا ہے گویا گھاٹ خیراتی

برنگ اس کے نہیں محبوب دل رونے کو عاشق کے

سعادت خاں ہے لڑکا، وضع کر لیتا ہے برساتی

Thursday, 7 October 2021

اے صبا کہہ بہار کی باتیں

 اے صبا کہہ بہار کی باتیں

اس بتِ گل عذار کی باتیں

کس پہ چھوڑے نگاہ کا شہباز

کیا کرے ہے شکار کی باتیں

مہربانی سیں یا ہوں غصے سیں

پیاری لگتی ہیں یار کی باتیں