Tuesday, 19 April 2022

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں

کہے تھے مردم شرابی ان کوں نکل گئیں اپنی دے غلطیاں

سوائے گل کے وہ شوخ انکھیاں کسی طرف کو نہیں ہیں راغب

تو برگِ نرگس اوپر بجا ہے لکھوں جو اپنے سجن کوں پتیاں

صنم کی زلفاں کو ہجر میں اب گئے ہیں مجھ نین ہیں خواب راحت

لگے ہے کانٹا نظر میں سونا،۔ کٹیں گی کیسے یہ کالی رتیاں

جو شمع رو کے دو لب ہیں شیریں تو سبزۂ خط بجا ہے اس پر

زمین پکڑی ہے طوطیوں نے سنیں جو میٹھی پیا کی بتیاں

خیال کر کر بھٹک رہا ہوں نظر جو آئے تیور ہیں بانکے

بناؤ بنتا نہیں ہے ناجی! جو اس سجن کو لگاؤں چھتیاں


ناجی شاکر

No comments:

Post a Comment