جمہوریت کے نام پر
عہدہ و منصب دلا جمہوریت کے نام پر
تخت پر مجھ کو بٹھا جمہوریت کے نام پر
آیت الکرسی کا کرتا ہوں وظیفہ رات دن
بخش کرسی اے خدا جمہوریت کے نام پر
فاقہ کش لٹتے رہیں، پِٹتے رہیں، مٹتے رہیں
مجھ کو ڈکٹیٹر بنا جمہوریت کے نام پر
بھولی بھالی قوم کوئی اور مل سکتی نہیں
قوم کو الو بنا جمہوریت کے نام پر
جور و استبداد شاہی دفن زیرِ خاک ہے
جاگ کر اس کو جگا جمہوریت کے نام پر
اے کہ ہے بنگال کا جادو پٹاری میں تری
فتنۂ محشر اٹھا جمہوریت کے نام پر
پہلے تو دے آتشِ صوبہ پرستی کو ہوا
تیل پھر اس پر گرا جمہوریت کے نام پر
یہ اگرچہ شر ہے لیکن اس میں تیری خیر ہے
پھوٹ کی پھوٹے وبا، جمہوریت کے نام پر
اتحادِ قوم ہے ڈینجر برائے اقتدار
قوم کو باہم لڑا جمہوریت کے نام پر
تعرۂ تکبیر بھی اچھا ہے لیکن اس کے ساتھ
اور اِک نعرہ لگا جمہوریت کے نام پر
دَور اب بھی دُور ہے سلطانئ جمہور کا
خوب ابھی گھپلا چلا جمہوریت کے نام پر
اسپِ تازی سر کے بل جو دو قدم چل کر گرا
بڑھ گیا آگے گدھا، جمہوریت کے نام پر
کیا ہوا جمہور کو روٹی اگر ملتی نہیں
تُو ڈنر اور لنچ اڑا ، جمہوریت کے نام پر
التجا ہے تیرے رمضانی کی اے ربِ مجید
اس کو بھی کرسی دلا، جمہوریت کے نام پر
مجید لاہوری
No comments:
Post a Comment