Showing posts with label نوید سروش. Show all posts
Showing posts with label نوید سروش. Show all posts

Monday, 28 March 2022

ذکر کرتے ہیں اپنے ماضی کا دوست ملتے ہیں جب

 ذکر کرتے ہیں اپنے ماضی کا

دوست ملتے ہیں جب پرانے دو

اے دوست! چند لمحے جو گزرے ہیں تیرے ساتھ

ان کو تمام عمر بھلایا نہ جائے گا

تم نے پوچھی ہے جو میری شام کی مصروفیت

دوست آ جاتے ہیں اکثر اپنے اپنے کام سے

Monday, 28 February 2022

اک نئی دنیا بسائی خاک پر

 اک نئی دنیا بسائی خاک پر

پھر نئی شمع جلائی خاک پر

ذہن میں کیا کیا خیال آتے رہے

ہم نے اک صورت بنائی خاک پر

سامنا مجھ کو تو ناکامی کا تھا

راہ یہ کس نے دکھائی خاک پر

Tuesday, 25 January 2022

جتنے بھی ہمراز ہوئے

 جتنے بھی ہمراز ہوئے

سب فتنہ پرواز ہوئے 

بستی میں ویرانی تھی 

ہم ہی پس انداز ہوئے

کوئی چارہ  ساز نہ تھا 

خود ہی چارہ ساز ہوئے

Sunday, 23 January 2022

لوگ اسے میرا المیہ سمجھتے ہیں

 المیہ


میں اپنی محبوبہ کو بانہوں میں لیے ہوئے

کسی اور لڑکی کے

حسن کی تعریف کرنے لگتا ہوں

اور اس کی قُربت سے

ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتا ہوں

Saturday, 22 January 2022

لوگ کتنے نڈر ہو گئے

 لوگ کتنے نڈر ہو گئے 

تختۂ دار پر سو گئے

درمیاں اپنے وہ کون تھے 

بیج نفرت کا جو بو گئے

راہ دکھلانے والے ہمیں

راستوں میں کہیں کھو گئے

Wednesday, 19 January 2022

شہر دل پر کبھی تم نے بھی صدارت کی تھی

 شہرِ دل پر کبھی تم نے بھی صدارت کی تھی

خامیوں پر مِری ہر بار رعایت کی تھی

یاد رکھنا تجھے یہ فرض نہیں تھا مجھ پر

تیرا مقروض نہ تھا تجھ سے محبت کی تھی

بے وفائی، غم و رسوائی، پریشانی، گلہ

اس نے کس زندہ دلی سے یہ عنایت کی تھی