ذکر کرتے ہیں اپنے ماضی کا
دوست ملتے ہیں جب پرانے دو
اے دوست! چند لمحے جو گزرے ہیں تیرے ساتھ
ان کو تمام عمر بھلایا نہ جائے گا
تم نے پوچھی ہے جو میری شام کی مصروفیت
دوست آ جاتے ہیں اکثر اپنے اپنے کام سے
ذکر کرتے ہیں اپنے ماضی کا
دوست ملتے ہیں جب پرانے دو
اے دوست! چند لمحے جو گزرے ہیں تیرے ساتھ
ان کو تمام عمر بھلایا نہ جائے گا
تم نے پوچھی ہے جو میری شام کی مصروفیت
دوست آ جاتے ہیں اکثر اپنے اپنے کام سے
اک نئی دنیا بسائی خاک پر
پھر نئی شمع جلائی خاک پر
ذہن میں کیا کیا خیال آتے رہے
ہم نے اک صورت بنائی خاک پر
سامنا مجھ کو تو ناکامی کا تھا
راہ یہ کس نے دکھائی خاک پر
جتنے بھی ہمراز ہوئے
سب فتنہ پرواز ہوئے
بستی میں ویرانی تھی
ہم ہی پس انداز ہوئے
کوئی چارہ ساز نہ تھا
خود ہی چارہ ساز ہوئے
المیہ
میں اپنی محبوبہ کو بانہوں میں لیے ہوئے
کسی اور لڑکی کے
حسن کی تعریف کرنے لگتا ہوں
اور اس کی قُربت سے
ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتا ہوں
لوگ کتنے نڈر ہو گئے
تختۂ دار پر سو گئے
درمیاں اپنے وہ کون تھے
بیج نفرت کا جو بو گئے
راہ دکھلانے والے ہمیں
راستوں میں کہیں کھو گئے
شہرِ دل پر کبھی تم نے بھی صدارت کی تھی
خامیوں پر مِری ہر بار رعایت کی تھی
یاد رکھنا تجھے یہ فرض نہیں تھا مجھ پر
تیرا مقروض نہ تھا تجھ سے محبت کی تھی
بے وفائی، غم و رسوائی، پریشانی، گلہ
اس نے کس زندہ دلی سے یہ عنایت کی تھی