شہرِ دل پر کبھی تم نے بھی صدارت کی تھی
خامیوں پر مِری ہر بار رعایت کی تھی
یاد رکھنا تجھے یہ فرض نہیں تھا مجھ پر
تیرا مقروض نہ تھا تجھ سے محبت کی تھی
بے وفائی، غم و رسوائی، پریشانی، گلہ
اس نے کس زندہ دلی سے یہ عنایت کی تھی
یہ صداقت جو ہے اب حرف و بیاں میں میرے
مدتوں اس کے لیے میں نے ریاضت کی تھی
چھوڑ کر جا نہیں سکتا کسی صورت میں وطن
اس کی خاطر مِرے اجداد نے ہجرت کی تھی
وہ بچھڑ کر بھی رہا ویسا کا ویسا ہی سروش
دیکھ کر اہلِ جنوں نے اسے حیرت کی تھی
نوید سروش
No comments:
Post a Comment