کہی کہ ان کہی ہر ایک بات سے گزرا
مِرا کلام بھی ہر طاق رات سے گزرا
میں اپنے آپ میں سمٹا تو پُر سکون ہوا
نہ پھر سے کوزہ گروں کے بھی ہاتھ سے گزرا
زمیں پہ بھول بُھلیّاں ہیں اور کچھ بھی نہیں
میں پھیلتی ہوئی ہر کائنات سے گزرا
میں پتھروں کی بھی تہذیب میں رہا پتھر
مِرا نصیب چمکتی سی دھات سے گزرا
وہ ابر ہو کے برستا ہے دشتِ عالم پر
وہ دکھ، وہ درد، جو بہتے فرات سے گزرا
دلِ حزیں کی سبھی دھڑکنوں کے صدقے میں
حسیں شباب بھی آخر زکوٰۃ سے گزرا
طوافِ کوچۂ جاناں کی خیر ہو اطہر
خدا کے گھر میں اسی واردات سے گزرا
علیم اطہر
No comments:
Post a Comment