Wednesday, 19 January 2022

غم کو اک سوغات سمجھ کر گلے لگائیں

 غم


غم کو اک سوغات سمجھ کر

گلے لگائیں

زیست کی اندھی راہگزر پر

چلتے جائیں

جب کے چاروں اور بھکاری

سب ہی بھکاری

سُکھ کی بِھکشا مانگ رہے ہیں

سُکھ کی چھایا کس نے دیکھی

کس نے

خوشبو کے نغموں کو چوما

سکھ جیون میں جھوٹا سپنا

پانی کے سینہ کا چھالا

غم مخلص ہے غم سچائی

غم کی تھاہ نہ دل نے پائی

غم اشکوں کے دیپ جلائے

راہ دکھائے

غم سے نصرت ڈرنا کیا

غم کو اک سوغات سمجھ کر

آؤ گلے لگائیں

زیست کی اندھی راہگزر پر

چلتے جائیں


نصرت چودھری

No comments:

Post a Comment