دیار یار سے آتی ہوئی ہواؤں کی خیر
ہو تیری خیر مِرے یار تیرے گاؤں کی خیر
سفر میں ہوں گی ابھی تک تو ہم سلامت ہیں
تِری بلا سے جو آنی تھیں ان بلاؤں کی خیر
کہ دوڑتا ہے تو گلشن میں چومنے کو گلاب
ہو خارزار میں تیرے برہنہ پاؤں کی خیر
اگر وہی ہیں جو تیرے لیے اہم ہیں تو پھر
ہو خیر تیرے خداؤں کی، دیوتاؤں کی خیر
ہو خیر سب کی خصوصاً ان اہلِ دین کی اور
تمہارے حق میں حجاز اک کی بد دعاؤں کی خیر
حجاز مہدی
مہدی نقوی حجاز
No comments:
Post a Comment