Showing posts with label انجم خلیق. Show all posts
Showing posts with label انجم خلیق. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

یہ کیسی بات مرا مہربان بھول گیا

 یہ کیسی بات مِرا مہربان بھول گیا

کُمک میں تِیر تو بھیجے کمان بھول گیا

جنوں نے مجھ سے تعارف کے مرحلے میں کہا

میں وہ ہنر ہوں جسے یہ جہان بھول گیا

کچھ اس تپاک سے راہیں لپٹ پڑیں مجھ سے

کہ میں تو سمت سفر کا نشان بھول گیا

Sunday, 25 April 2021

کار ہنر سنوارنے والوں میں آئے گا

 کارِ ہنر سنوارنے والوں میں آئے گا

جب بھی ہمارا نام حوالوں میں آئے گا

ٹیلوں کو ساتھ لے کے جو اُڑتی رہی ہوا

صحرا کا رنگ برف کے گالوں میں آئے گا

جب آفتاب عمر کی ڈھلنے لگے گی دھوپ

تب روشنی کا فن مِرے بالوں میں آئے گا

Saturday, 24 April 2021

بہ فیض آگہی یہ کیا عذاب دیکھ لیا

 بہ فیضِ آگہی یہ کیا عذاب دیکھ لیا

کہ خود ہی اپنے کئے کا حساب دیکھ لیا

یہ نسل نسل مسافت بہل رہی ہے یوں ہی

سراب جاگتے سوتے میں خواب دیکھ لیا

دلوں کی تیرگی دھونے کو لوگ اُٹھے ہیں جب

چھتوں پر اُترا ہوا آفتاب دیکھ لیا

Friday, 23 April 2021

یہ بھی نہیں رہیں گے جو وہ دن نہیں رہے

 یہ بھی نہیں رہیں گے جو وہ دن نہیں رہے

کچھ لوگ اپنے ظلم مگر گِن نہیں رہے

سوچوں کی دھوپ، خون کی حِدت، نظر کی تاب

اعزاز کیسے کیسے یہاں چھِن نہیں رہے

ہاں ہم سیاہ رُتوں میں سحر کے نقیب تھے

اب ہم بھی اس مزاج کے لیکن نہیں رہے

Saturday, 26 December 2020

بیتے ہوئے لمحات کو پہچان میں رکھنا

 بِیتے ہوئے لمحات کو پہچان میں رکھنا 

مُرجھائے ہوئے پھول بھی گُلدان میں رکھنا 

کیا جانیں سفر خیر سے گزرے کہ نہ گزرے 

تم گھر کا پتہ بھی مِرے سامان میں رکھنا 

کیا دن تھے مجھے شوق سے مہمان بلانا 

اور خود کو مگر خدمتِ مہمان میں رکھنا