یہ کیسی بات مِرا مہربان بھول گیا
کُمک میں تِیر تو بھیجے کمان بھول گیا
جنوں نے مجھ سے تعارف کے مرحلے میں کہا
میں وہ ہنر ہوں جسے یہ جہان بھول گیا
کچھ اس تپاک سے راہیں لپٹ پڑیں مجھ سے
کہ میں تو سمت سفر کا نشان بھول گیا
یہ کیسی بات مِرا مہربان بھول گیا
کُمک میں تِیر تو بھیجے کمان بھول گیا
جنوں نے مجھ سے تعارف کے مرحلے میں کہا
میں وہ ہنر ہوں جسے یہ جہان بھول گیا
کچھ اس تپاک سے راہیں لپٹ پڑیں مجھ سے
کہ میں تو سمت سفر کا نشان بھول گیا
کارِ ہنر سنوارنے والوں میں آئے گا
جب بھی ہمارا نام حوالوں میں آئے گا
ٹیلوں کو ساتھ لے کے جو اُڑتی رہی ہوا
صحرا کا رنگ برف کے گالوں میں آئے گا
جب آفتاب عمر کی ڈھلنے لگے گی دھوپ
تب روشنی کا فن مِرے بالوں میں آئے گا
بہ فیضِ آگہی یہ کیا عذاب دیکھ لیا
کہ خود ہی اپنے کئے کا حساب دیکھ لیا
یہ نسل نسل مسافت بہل رہی ہے یوں ہی
سراب جاگتے سوتے میں خواب دیکھ لیا
دلوں کی تیرگی دھونے کو لوگ اُٹھے ہیں جب
چھتوں پر اُترا ہوا آفتاب دیکھ لیا
یہ بھی نہیں رہیں گے جو وہ دن نہیں رہے
کچھ لوگ اپنے ظلم مگر گِن نہیں رہے
سوچوں کی دھوپ، خون کی حِدت، نظر کی تاب
اعزاز کیسے کیسے یہاں چھِن نہیں رہے
ہاں ہم سیاہ رُتوں میں سحر کے نقیب تھے
اب ہم بھی اس مزاج کے لیکن نہیں رہے
بِیتے ہوئے لمحات کو پہچان میں رکھنا
مُرجھائے ہوئے پھول بھی گُلدان میں رکھنا
کیا جانیں سفر خیر سے گزرے کہ نہ گزرے
تم گھر کا پتہ بھی مِرے سامان میں رکھنا
کیا دن تھے مجھے شوق سے مہمان بلانا
اور خود کو مگر خدمتِ مہمان میں رکھنا