Sunday, 25 April 2021

کار ہنر سنوارنے والوں میں آئے گا

 کارِ ہنر سنوارنے والوں میں آئے گا

جب بھی ہمارا نام حوالوں میں آئے گا

ٹیلوں کو ساتھ لے کے جو اُڑتی رہی ہوا

صحرا کا رنگ برف کے گالوں میں آئے گا

جب آفتاب عمر کی ڈھلنے لگے گی دھوپ

تب روشنی کا فن مِرے بالوں میں آئے گا

کیسا فراق، کیسی جدائی، کہاں کا ہجر

وہ جائے گا اگر تو خیالوں میں آئے گا

انساں سے پیار، حُسن پرستی، وطن سے عشق

ہم نے کِیا ہے یوں کہ مثالوں میں آئے گا

انجم خلیق اک نئے انجم کو دیکھنا

جس دن وہ آگہی کے اُجالوں میں آئے گا 


انجم خلیق

No comments:

Post a Comment