عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل کو سکون روح کو بالیدگی ملی
ذکرِ محمدیﷺ سے نئی زندگی ملی
کلیوں نے تِرا نام ہی چُپکے سے لیا تھا
پھولوں کو اک مہکتی ہوئی تازگی ملی
لولاک لما خلق، کی تنویر ہیں تارے
تیرے ظہور سے جنہیں تابندگی ملی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل کو سکون روح کو بالیدگی ملی
ذکرِ محمدیﷺ سے نئی زندگی ملی
کلیوں نے تِرا نام ہی چُپکے سے لیا تھا
پھولوں کو اک مہکتی ہوئی تازگی ملی
لولاک لما خلق، کی تنویر ہیں تارے
تیرے ظہور سے جنہیں تابندگی ملی
حاصل ہے ساری عمر کا اک سوزِ ناتمام
دستِ طلب میں کچھ نہیں، بس ایک ترا نام
جس پر بہت ہی ناز کیا ہے تمام عمر
آخر پتہ چلا وہ محبت تھی میری خام
جس مستقل کسک کو دیا نام عشق کا
اک آرزو کا کھیل تھا اور وہ بھی ناتمام
کوئی خیال و خواب نہیں ہے قرینِ دل
بنجر سی ہو گئی ہے مری سرزمینِ دل
کوئی مجاہدہ ہے نہ کوئی مشاہدہ
اک منتظر سکوت ہوا ہے مکینِ دل
مہمان تھا، چلا گیا، جانا ہی تھا اسے
اک یاد رہ گئی سو ہوئی ہمنشینِ دل
اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی
اک غم کو بھول جانے کی عادت نہ ہو سکی
کچھ دیر جلتا رہتا ہواؤں کے رو برو
گھر کے دِیے سے اتنی مروّت نہ ہو سکی
اس کم وفا نے زخم وہ بخشا کہ اس کے بعد
ہم سے تو ساری عمر محبت نہ ہو سکی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مرے دل میں عشقِ رسولؐ ہو مجھے فکرِ سود و زیاں نہیں
غمِ مصطفٰیؐ جو نہ ہو اگر،کسی غم سے مجھ کو اماں نہیں
مجھے خواہشوں میں لُبھا دیا، یہ نفس ہے کتنی بُری بلا
کروں سامنا میں حضورؐ کا مِرے دل میں تاب و تواں نہیں
یہ قسم کہ سر نہ اٹھاؤں گا، یہ بھرم کہ لب نہ ہلاؤں گا
یہ یقیں کہ سب یہیں پاؤں گا، کوئی بات ان سے نہاں نہیں
آواز
وہ تو واقف نہ تھی الفاظ کے تقدس سے
معنی و حرف کی حُرمت سے بھی آگاہ نہ تھی
اس سے شکایت کیسی
اپنے ہی عہدِ محبت کا جسے پاس نہیں
کوئی احساس نہیں
اندیشہ
میں زندگی کی اُداس وُسعتوں میں
الجھ گیا ہوں
میں لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں
مِرے لہو میں سمیٹے جانے کی ایک خواہش سی اُگ رہی ہے
(ہر اک تمنا سُلگ رہی ہے)
تمہیں شریکِ سفر بنا لوں