Showing posts with label محمود غزنوی. Show all posts
Showing posts with label محمود غزنوی. Show all posts

Monday, 21 August 2023

دل کو سکون روح کو بالیدگی ملی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل کو سکون روح کو بالیدگی ملی

ذکرِ محمدیﷺ سے نئی زندگی ملی

کلیوں نے تِرا نام ہی چُپکے سے لیا تھا

پھولوں کو اک مہکتی ہوئی تازگی ملی

لولاک لما خلق، کی تنویر ہیں تارے

تیرے ظہور سے جنہیں تابندگی ملی

Thursday, 23 March 2023

حاصل ہے ساری عمر کا اک سوز ناتمام

 حاصل ہے ساری عمر کا اک سوزِ ناتمام

دستِ طلب میں کچھ نہیں، بس ایک ترا نام

جس پر بہت ہی ناز کیا ہے تمام عمر

آخر پتہ چلا وہ محبت تھی میری خام

جس مستقل کسک کو دیا نام عشق کا

اک آرزو کا کھیل تھا اور وہ بھی ناتمام

Friday, 23 September 2022

کوئی خیال و خواب نہیں ہے قرین دل

 کوئی خیال و خواب نہیں ہے قرینِ دل

بنجر سی ہو گئی ہے مری سرزمینِ دل

کوئی مجاہدہ ہے نہ کوئی مشاہدہ

اک منتظر سکوت ہوا ہے مکینِ دل

مہمان تھا، چلا گیا، جانا ہی تھا اسے

اک یاد رہ گئی سو ہوئی ہمنشینِ دل

Thursday, 15 September 2022

اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی

 اتنی سی زندگی میں ریاضت نہ ہو سکی

اک غم کو بھول جانے کی عادت نہ ہو سکی

کچھ دیر جلتا رہتا ہواؤں کے رو برو

گھر کے دِیے سے اتنی مروّت نہ ہو سکی

اس کم وفا نے زخم وہ بخشا کہ اس کے بعد

ہم سے تو ساری عمر محبت نہ ہو سکی

Wednesday, 14 September 2022

مرے دل میں عشق رسول ہو مجھے فکر سود و زیاں نہیں

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مرے دل میں عشقِ رسولؐ ہو مجھے فکرِ سود و زیاں نہیں

غمِ مصطفٰیؐ جو نہ ہو اگر،کسی غم سے مجھ کو اماں نہیں

مجھے خواہشوں میں لُبھا دیا، یہ نفس ہے کتنی بُری بلا

کروں سامنا میں حضورؐ کا مِرے دل میں تاب و تواں نہیں

یہ قسم کہ سر نہ اٹھاؤں گا، یہ بھرم کہ لب نہ ہلاؤں گا

یہ یقیں کہ سب یہیں پاؤں گا، کوئی بات ان سے نہاں نہیں

Wednesday, 14 July 2021

وہ تو واقف نہ تھی الفاظ کے تقدس سے

 آواز


وہ تو واقف نہ تھی الفاظ کے تقدس سے

معنی و حرف کی حُرمت سے بھی آگاہ نہ تھی

اس سے شکایت کیسی

اپنے ہی عہدِ محبت کا جسے پاس نہیں

کوئی احساس نہیں

Sunday, 11 July 2021

میں زندگی کی اداس وسعتوں میں الجھ گیا ہوں

 اندیشہ


میں زندگی کی اُداس وُسعتوں میں

الجھ گیا ہوں

میں لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں

مِرے لہو میں سمیٹے جانے کی ایک خواہش سی اُگ رہی ہے

(ہر اک تمنا سُلگ رہی ہے)

تمہیں شریکِ سفر بنا لوں