اندیشہ
میں زندگی کی اُداس وُسعتوں میں
الجھ گیا ہوں
میں لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں
مِرے لہو میں سمیٹے جانے کی ایک خواہش سی اُگ رہی ہے
(ہر اک تمنا سُلگ رہی ہے)
تمہیں شریکِ سفر بنا لوں
مگر میں دنیا کو جانتا ہوں
کہ میری سوچیں حقیقتوں کے
لہو سمندر نہا چکی ہیں
میں سوچتا ہوں کہ میرے سب خواب ریشمی ہیں
تُو میری کھدّر رفاقتوں میں
بھرم کہیں بھی نہ رکھ سکے گا
محمود احمد غزنوی
No comments:
Post a Comment