Showing posts with label راشد امین. Show all posts
Showing posts with label راشد امین. Show all posts

Saturday, 2 April 2022

ایک تصویر جو کمرے میں لگائی ہوئی ہے

 ایک تصویر جو کمرے میں لگائی ہوئی ہے

گھر کی ٹوٹی ہوئی دیوار چھپائی ہوئی ہے

قبر پہ دِیپ نہ رکھ نام کا کتبہ نہ لگا

ہم نے مشکل سے یہ تنہائی کمائی ہوئی ہے

تخت اور تاج تو جوتوں میں پڑے رہتے ہیں

وہ گدائی تِرے درویش نے پائی ہوئی ہے

Tuesday, 15 February 2022

پتھر پڑے ہوئے کہیں رستہ بنا ہوا

 پتھر پڑے ہوئے، کہیں رستہ بنا ہوا

ہاتھوں میں تیرے گاؤں کا نقشہ بنا ہوا

آنکھوں کی آبجو کے کنارے کسی کا عکس

پانی میں لگ رہا ہے پرندہ بنا ہوا

صحرا کی گرم دھوپ میں باغ بہشت ہے

تنکوں سے تیرے ہاتھ کا پنکھا بنا ہوا

Friday, 11 February 2022

جز اور کیا کسی سے ہے جھگڑا فقیر کا

 جُز اور کیا کسی سے ہے جھگڑا فقیر کا

کتوں نے روک رکھا ہے رستہ فقیر کا

اُجلا ہے اس سے بڑھ کے کہیں روح کا لباس

مَیلا ہے جس قدر بھی یہ کرتا فقیر کا

جب دُھوپ کے سفر میں مِرا ہم سفر بنا

برگد سے بھی گھنا لگا سایہ فقیر کا

Sunday, 30 January 2022

تیری مہندی میں مرے خوں کی مہک آ جائے

 تیری مہندی میں مِرے خوں کی مہک آ جائے

پھر تو یہ شہر مِری جان تلک آ جائے

بس پہ یہ سوچ کے چڑھتے ہوئے رہ جاتا ہوں

کیا خبر تیرے رویے میں لچک آ جائے

اونٹ اور ریت مِری ذات کا حصہ تھے مگر

اب قدم گھر سے نکالوں تو سڑک آ جائے

Thursday, 27 January 2022

آنکھ کی جھیل میں کہرام سے آئے ہوئے ہیں

 آنکھ کی جھیل میں کہرام سے آئے ہوئے ہیں

چاند ڈھلنے کو ہے اور شام سے آئے ہوئے ہیں

چوڑیوں اور پرندوں کے نہیں ہیں گاہک

ہم تو میلے میں کسی کام سے آئے ہوئے ہیں

تیری تصویر تو کمرے میں ہے یادوں کا گلاب

زرد پتے تو در و بام سے آئے ہوئے ہیں

Wednesday, 26 January 2022

شہر سے کوئی مضافات میں آیا ہوا تھا

 شہر سے کوئی مضافات میں آیا ہوا تھا

ایک باشندہ مِری گھات میں آیا ہوا تھا

یوں ہی کاٹے نہیں دشمن نے مِرے دونوں ہاتھ

اس سے زر بڑھ کے مِرے ہاتھ میں آیا ہوا تھا

اب جہاں خشک زمینیں ہیں، بدن ہیں بنجر

یہ علاقہ، کبھی برسات میں آیا ہوا تھا