ایک تصویر جو کمرے میں لگائی ہوئی ہے
گھر کی ٹوٹی ہوئی دیوار چھپائی ہوئی ہے
قبر پہ دِیپ نہ رکھ نام کا کتبہ نہ لگا
ہم نے مشکل سے یہ تنہائی کمائی ہوئی ہے
تخت اور تاج تو جوتوں میں پڑے رہتے ہیں
وہ گدائی تِرے درویش نے پائی ہوئی ہے
ایک تصویر جو کمرے میں لگائی ہوئی ہے
گھر کی ٹوٹی ہوئی دیوار چھپائی ہوئی ہے
قبر پہ دِیپ نہ رکھ نام کا کتبہ نہ لگا
ہم نے مشکل سے یہ تنہائی کمائی ہوئی ہے
تخت اور تاج تو جوتوں میں پڑے رہتے ہیں
وہ گدائی تِرے درویش نے پائی ہوئی ہے
پتھر پڑے ہوئے، کہیں رستہ بنا ہوا
ہاتھوں میں تیرے گاؤں کا نقشہ بنا ہوا
آنکھوں کی آبجو کے کنارے کسی کا عکس
پانی میں لگ رہا ہے پرندہ بنا ہوا
صحرا کی گرم دھوپ میں باغ بہشت ہے
تنکوں سے تیرے ہاتھ کا پنکھا بنا ہوا
جُز اور کیا کسی سے ہے جھگڑا فقیر کا
کتوں نے روک رکھا ہے رستہ فقیر کا
اُجلا ہے اس سے بڑھ کے کہیں روح کا لباس
مَیلا ہے جس قدر بھی یہ کرتا فقیر کا
جب دُھوپ کے سفر میں مِرا ہم سفر بنا
برگد سے بھی گھنا لگا سایہ فقیر کا
تیری مہندی میں مِرے خوں کی مہک آ جائے
پھر تو یہ شہر مِری جان تلک آ جائے
بس پہ یہ سوچ کے چڑھتے ہوئے رہ جاتا ہوں
کیا خبر تیرے رویے میں لچک آ جائے
اونٹ اور ریت مِری ذات کا حصہ تھے مگر
اب قدم گھر سے نکالوں تو سڑک آ جائے
آنکھ کی جھیل میں کہرام سے آئے ہوئے ہیں
چاند ڈھلنے کو ہے اور شام سے آئے ہوئے ہیں
چوڑیوں اور پرندوں کے نہیں ہیں گاہک
ہم تو میلے میں کسی کام سے آئے ہوئے ہیں
تیری تصویر تو کمرے میں ہے یادوں کا گلاب
زرد پتے تو در و بام سے آئے ہوئے ہیں
شہر سے کوئی مضافات میں آیا ہوا تھا
ایک باشندہ مِری گھات میں آیا ہوا تھا
یوں ہی کاٹے نہیں دشمن نے مِرے دونوں ہاتھ
اس سے زر بڑھ کے مِرے ہاتھ میں آیا ہوا تھا
اب جہاں خشک زمینیں ہیں، بدن ہیں بنجر
یہ علاقہ، کبھی برسات میں آیا ہوا تھا