Showing posts with label کنول ملک. Show all posts
Showing posts with label کنول ملک. Show all posts

Monday, 15 May 2023

آپ جیسا جب مرا مشکل کشا ہو یا نبی

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


آپﷺ جیسا جب مِرا مشکل کشا ہو یا نبیﷺ

مشکلوں کا شوق سے پھر سامنا ہو یا نبیﷺ

آپﷺ پر صلِ علیٰ پڑھتی رہوں میں دم بدم

خوشبوؤں سے گھر میرا آراستہ ہو یا نبیﷺ

ہو مدینے کا سفر در پیش مجھ کو ایک دن

آنسوؤں میں تر بتر ہر راستہ ہو یا نبیﷺ

Thursday, 8 December 2022

تری آنکھوں نے آنکھوں کا سسکنا بھی نہیں دیکھا

 تِری آنکھوں نے آنکھوں کا سسکنا بھی نہیں دیکھا

محبت بھی نہیں دیکھی، تڑپنا بھی نہیں دیکھا

نہیں دیکھا ابھی تم نے مِری تنہائی کا منظر

کہ اپنے آپ سے میرا الجھنا بھی نہیں دیکھا

ابھی تم نے تمہارے بِن مِری حالت نہیں دیکھی

ابھی تم نے مِرا غم میں بِلکنا بھی نہیں دیکھا

Friday, 29 October 2021

پھر سے تم کو خواب میں دیکھا

 خواب کے اندر خواب کا منظر


پھر سے تم کو خواب میں دیکھا

سوتے سوتے جاگ گئی میں

میں یہ سمجھی، تم آئے ہو

آہٹ پا کر بھاگ گئی میں

دروازہ ویران پڑا تھا

Friday, 28 May 2021

ہجر کی تلخیاں سہوں گی نہیں

 ہجر کی تلخیاں سہوں گی نہیں

تب تم آؤ گے، جب میں ہوں گی نہیں

دل کی باتیں جو روک رکھی ہیں

یہ بھی طے ہے کبھی کہوں گی نہیں

بھیگی آنکھوں میں اشک ہوں گے بس

مسکراتی ہوئی ملوں گی نہیں

Thursday, 6 May 2021

میں ایک عجیب فقیرنی دربار پہ تیرے شاہ

 شاہ


میں ایک عجیب فقیرنی دربار پہ تیرے شاہ

میں منگتی تیری دید کی مجھے اور نہ کوئی چاہ

میں ترسی جس کے فرش کو وہ میری سجدہ گاہ

میری آنکھیں خالی ہو گئیں یوں اشک بہے واللہ

میرا ماتھا روشن ہو گیا تِرے فرش پہ جب رکھا

میں گُڑ سی میٹھی ہو گئی اس دُھول کو جب چکھا

Wednesday, 21 April 2021

ابھی نہیں کبھی پھر تجھ سے رابطہ کروں گی

 ابھی نہیں کبھی پھر تجھ سے رابطہ کروں گی

میں اپنے آپ سے کچھ روز مشورہ کروں گی

بھٹک رہی ہوں تو اس میں بھی میری مرضی ہے

تِرے فریب سے نکلوں گی، راستہ کروں گی

نصیب اپنا جگاتے ہیں جاگنے والے

میں تیری یاد مناؤں گی رت جگا کروں گی

Friday, 16 April 2021

مجھ پہ کیا وار کر دیا تو نے

 مجھ پہ کیا وار کر دیا تُو نے

میرا انکار کر دیا تو نے

میرے خوابوں کی اک حویلی تھی

اس کو مسمار کر دیا تو نے

زندگی سے بھری ہوئی تھی میں

دشت آثار کر دیا تو نے

رقص کرتے ہوئے میں تجھ کو منایا کرتی

 رقص کرتے ہوئے میں تجھ کو منایا کرتی

دھول ہوتی تو کبھی دھول اڑایا کرتی

کسی دھاگے سے بندھا آتا اگر تو مِرے پاس

منتوں والے دِیے روز جلایا کرتی

میں شجرکاری کے موسم میں اُگاتی کوئی پیڑ

اور محبت سے پرندوں کو بلایا کرتی

Thursday, 15 April 2021

سائیں میرا رانجھن موڑ

 سائیں میرا رانجھن موڑ

چاہ نہیں ہے کوئی اور

جاؤں گی سہون، اجمیر

داتا کے دربار لاہور

سائیں میں نے ہجر گِنا

چھلنی ہاتھ کی ہر اک پور

تری فرقت میں جینا آ گیا ہے

 تِری فرقت میں جینا آ گیا ہے

محبت کا قرینہ آ گیا ہے

ہمارے زخم تازہ ہو رہے ہیں

دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے

بہت چاہت تھی تم سے مل کے روؤں

مگر اب اشک پینا آ گیا ہے

Friday, 18 December 2020

تمہیں پانے کی چاہت ہے مگر کھونے کا ڈر بھی ہے

 تمہیں پانے کی چاہت ہے مگر کھونے کا ڈر بھی ہے

کہ دل شہرِ تمنا ہے تو محرومی کا گھر بھی ہے

وفا کے باغ میں جھولے پڑے ہیں آرزوؤں کے

دعاؤں کی ہری بیلوں پہ خواہش کا ثمر بھی ہے

مسافت نا امیدی کی پڑی ہے پاؤں میں میرے

تمہاری ہمرہی بھی ہے مگر تنہا سفر بھی ہے