سائیں میرا رانجھن موڑ
چاہ نہیں ہے کوئی اور
جاؤں گی سہون، اجمیر
داتا کے دربار لاہور
سائیں میں نے ہجر گِنا
چھلنی ہاتھ کی ہر اک پور
سائیں روٹھا عشق ملا
توڑ دے یا پھر سانس کی ڈور
سائیں تجھ پر مان بڑا
سائیں میرا مان نہ توڑ
تیرے بِن اب کون مِرا
سائیں تو بھی ساتھ نہ چھوڑ
سائیں زخمی ذات مِری
سائیں مجھ کو اور نہ توڑ
سائیں باہر گہری چُپ
اندر سائیں شور ہی شور
سائیں اپنی رحمت دیکھ
سائیں میرے پاپ کو چھوڑ
سائیں کُل عالم کے شاہ
شاہ مجھے مت خالی موڑ
سائیں میرا رانجھن تُو
تُو ہی تُو نہ کوئی اور
کنول ملک
No comments:
Post a Comment