انہیں الفت نہیں ہم سے ہمیں نفرت نہیں اُن سے
جہاں ملتے ہیں وہ ہم شکوہ کرتے ہیں وہیں ان سے
تمہارے نام کے جو پھول کھلتے ہیں گلستاں میں
ملے فرصت تو ہم اپنی سجاتے ہیں جبیں اُن سے
سرِ محفل کرن جس روز وہ جلوہ نما ہوں گے
جتائیں گے محبت دیکھنا کتنے حسیں ان سے
مجھے امید کی کرنیں انہی کے در سے ملتی ہیں
کہ میں نے منسلک کر رکھیں ہیں دنیا ودیں سے
ملے گا دیکھنا اس بار تو ہاں میں جواب ان کا
کسی صورت بھی اب میں سن نہیں سکتی نہیں ان سے
کرن وقار
No comments:
Post a Comment