Showing posts with label فیروزہ یاسمین. Show all posts
Showing posts with label فیروزہ یاسمین. Show all posts

Monday, 14 September 2026

پوچھتی ہے زندگی وقت کی قیمت کیا ہے

 وقت کی قیمت کیا ہے


کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ

ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ

چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے

کہتے ہیں روشنی میں آ

کہا ہوا سنا

سنائیں کس طرح

Wednesday, 25 March 2026

ان کا انداز بیاں اور اثر تو دیکھو

 ان کا انداز بیاں اور اثر تو دیکھو

گفتگو کا یہ سلیقہ یہ ہنر تو دیکھو

زخم پر مرہم امید رکھا ہے میں نے

دیکھنے والو مِرا زخم جگر تو دیکھو

کہہ رہی ہے مِرے کانوں میں گزرتی ہوئی شام

یہ مِرا حوصلہ یہ عزم سفر تو دیکھو

Thursday, 14 November 2024

دل کسی وادی میں جا کے سو گیا

 دل کسی وادی میں جا کے سو گیا


چہکتے رہے مہکتے رہے

برسوں کی دیوانگی کا

نتیجہ نہ کوئی صلہ

کیوں انتظار بہار کرتے رہے

کانٹوں کو پیار کرتے رہے

یہاں تک کہ

Sunday, 6 October 2024

لب پہ ہر وقت یہ گلہ کیا ہے

 لب پہ ہر وقت یہ گِلہ کیا ہے

ایسے جینے میں پھر مزا کیا ہے

سب محبت میں ہار بیٹھے ہیں

دل کے جذبات میں رکھا کیا ہے

شمعِ اُمید ہیں جلائے ہوئے

ہم نہیں جانتے وفا کیا ہے

Friday, 15 October 2021

نازک ہو گئے ہیں رشتے

رشتے


نازک ہو گئے ہیں رشتے

ٹوٹ رہے ہیں دھاگے کی طرح

منہ موڑ لیتے ہیں لوگ

دل توڑ دیتے ہیں

رخ پھیر لیتے ہیں

بس چلے تو یادوں کو بھی کھرچ ڈالیں