وقت کی قیمت کیا ہے
کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ
ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ
چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے
کہتے ہیں روشنی میں آ
کہا ہوا سنا
سنائیں کس طرح
وقت کی قیمت کیا ہے
کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ
ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ
چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے
کہتے ہیں روشنی میں آ
کہا ہوا سنا
سنائیں کس طرح
ان کا انداز بیاں اور اثر تو دیکھو
گفتگو کا یہ سلیقہ یہ ہنر تو دیکھو
زخم پر مرہم امید رکھا ہے میں نے
دیکھنے والو مِرا زخم جگر تو دیکھو
کہہ رہی ہے مِرے کانوں میں گزرتی ہوئی شام
یہ مِرا حوصلہ یہ عزم سفر تو دیکھو
دل کسی وادی میں جا کے سو گیا
چہکتے رہے مہکتے رہے
برسوں کی دیوانگی کا
نتیجہ نہ کوئی صلہ
کیوں انتظار بہار کرتے رہے
کانٹوں کو پیار کرتے رہے
یہاں تک کہ
لب پہ ہر وقت یہ گِلہ کیا ہے
ایسے جینے میں پھر مزا کیا ہے
سب محبت میں ہار بیٹھے ہیں
دل کے جذبات میں رکھا کیا ہے
شمعِ اُمید ہیں جلائے ہوئے
ہم نہیں جانتے وفا کیا ہے
رشتے
نازک ہو گئے ہیں رشتے
ٹوٹ رہے ہیں دھاگے کی طرح
منہ موڑ لیتے ہیں لوگ
دل توڑ دیتے ہیں
رخ پھیر لیتے ہیں
بس چلے تو یادوں کو بھی کھرچ ڈالیں