Friday, 15 October 2021

نازک ہو گئے ہیں رشتے

رشتے


نازک ہو گئے ہیں رشتے

ٹوٹ رہے ہیں دھاگے کی طرح

منہ موڑ لیتے ہیں لوگ

دل توڑ دیتے ہیں

رخ پھیر لیتے ہیں

بس چلے تو یادوں کو بھی کھرچ ڈالیں

تصور کو بھی دل سے نکال پھینکیں

حسین وقت کی جو یادیں ہیں

یہ مگر ہو نہیں سکتا

پھر بھی توڑ کے رشتوں کو

آتے ہیں پیش اجنبی کی طرح

نازک ہو گئے ہیں رشتے

ٹوٹ رہے ہیں دھاگے کی طرح


فیروزہ یاسمین

No comments:

Post a Comment