Showing posts with label علیم اختر. Show all posts
Showing posts with label علیم اختر. Show all posts

Saturday, 2 October 2021

محبت کیا محبت کا صلہ کیا

 محبت کیا محبت کا صِلا کیا

غم بربادئ جنس وفا کیا

دل بے مدعا کا مدعا کیا

ہمارا حال ہم سے پوچھنا کیا

ہمیں دنیا میں اپنے غم سے مطلب

زمانے کی خوشی سے واسطا کیا

Thursday, 30 September 2021

دل کو شائستۂ احساس تمنا نہ کریں

 دل کو شائستۂ احساسِ تمنا نہ کریں

آپ اس اندازِ نظر سے مجھے دیکھا نہ کریں

یک بہ یک لطف و عنایت کا ارادہ نہ کریں

آپ یوں اپنی جفاؤں کو تماشا نہ کریں

ان کو یہ فکر ہے اب ترکِ تعلق کر کے

کہ ہم اب پُرسشِ احوال کریں یا نہ کریں

Tuesday, 28 September 2021

تو اگر دل نواز ہو جائے سوز ہم رنگ ساز ہو جائے

 تو اگر دل نواز ہو جائے

سوز ہم رنگِ ساز ہو جائے

دل جو آگاہِ راز ہو جائے

ہر حقیقت مجاز ہو جائے

لذتِ غم کا یہ تقاضا ہے

مدتِ غم دراز ہو جائے

Sunday, 15 August 2021

نگاہ لطف کیا کم ہو گئی ہے

 نگاہِ لطف کیا کم ہو گئی ہے 

محبت اور محکم ہو گئی ہے 

مآلِ ضبطِ پیہم ہو گئی ہے 

مسرت حاصلِ غم ہو گئی ہے 

تمنا جب بڑھی ہے اپنی حد سے 

تو مایوسی کا عالم ہو گئی ہے 

Wednesday, 4 August 2021

درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے

 درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے

زندگی بے مزا نہ ہو جائے

ان تلوّن مزاجیوں کا شکار

کوئی میرے سوا نہ ہو جائے

لذت انتظار ہی نہ رہے

کہیں وعدہ وفا نہ ہو جائے

Friday, 8 January 2021

نگہ شوق کا پیغام مجھے لوٹا دو

نگہ شوق کا پیغام مجھے لوٹا دو

میرا جام مئے گلفام مجھے لوٹا دو

میں نے جو اک نامۂ شوق لکھا تھا کبھی

لکھ کے اس خط پہ مرا نام مجھے لوٹا دو

صبح تو عالم آواز شکست شب ہے

میری سنولائی ہوئی شام مجھے لوٹا دو