محبت کیا محبت کا صِلا کیا
غم بربادئ جنس وفا کیا
دل بے مدعا کا مدعا کیا
ہمارا حال ہم سے پوچھنا کیا
ہمیں دنیا میں اپنے غم سے مطلب
زمانے کی خوشی سے واسطا کیا
محبت کیا محبت کا صِلا کیا
غم بربادئ جنس وفا کیا
دل بے مدعا کا مدعا کیا
ہمارا حال ہم سے پوچھنا کیا
ہمیں دنیا میں اپنے غم سے مطلب
زمانے کی خوشی سے واسطا کیا
دل کو شائستۂ احساسِ تمنا نہ کریں
آپ اس اندازِ نظر سے مجھے دیکھا نہ کریں
یک بہ یک لطف و عنایت کا ارادہ نہ کریں
آپ یوں اپنی جفاؤں کو تماشا نہ کریں
ان کو یہ فکر ہے اب ترکِ تعلق کر کے
کہ ہم اب پُرسشِ احوال کریں یا نہ کریں
تو اگر دل نواز ہو جائے
سوز ہم رنگِ ساز ہو جائے
دل جو آگاہِ راز ہو جائے
ہر حقیقت مجاز ہو جائے
لذتِ غم کا یہ تقاضا ہے
مدتِ غم دراز ہو جائے
نگاہِ لطف کیا کم ہو گئی ہے
محبت اور محکم ہو گئی ہے
مآلِ ضبطِ پیہم ہو گئی ہے
مسرت حاصلِ غم ہو گئی ہے
تمنا جب بڑھی ہے اپنی حد سے
تو مایوسی کا عالم ہو گئی ہے
درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے
زندگی بے مزا نہ ہو جائے
ان تلوّن مزاجیوں کا شکار
کوئی میرے سوا نہ ہو جائے
لذت انتظار ہی نہ رہے
کہیں وعدہ وفا نہ ہو جائے
نگہ شوق کا پیغام مجھے لوٹا دو
میرا جام مئے گلفام مجھے لوٹا دو
میں نے جو اک نامۂ شوق لکھا تھا کبھی
لکھ کے اس خط پہ مرا نام مجھے لوٹا دو
صبح تو عالم آواز شکست شب ہے
میری سنولائی ہوئی شام مجھے لوٹا دو