نگاہِ لطف کیا کم ہو گئی ہے
محبت اور محکم ہو گئی ہے
مآلِ ضبطِ پیہم ہو گئی ہے
مسرت حاصلِ غم ہو گئی ہے
تمنا جب بڑھی ہے اپنی حد سے
تو مایوسی کا عالم ہو گئی ہے
ہے محوِ رقص ہر برگِ چمن پر
بڑی بے باک شبنم ہو گئی ہے
ہنسی ہونٹوں پر آتے آتے اختر
پیامِ گریۂ غم ہو گئی ہے
علیم اختر
No comments:
Post a Comment