Sunday, 15 August 2021

نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق

 نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشق

ابھی دل پر تِرے اُترا کہاں عشق

ابھی تک صرف آوازیں سنی ہیں

ابھی تک لکھ رہی ہیں انگلیاں عشق

زباں پر اس قدر گردان کیوں ہے

تو کیسے ہوش میں کہتا ہے ہاں عشق

زمیں سے آسماں تک گل کھلے ہیں

تڑپ کر ہو رہے ہیں جسم و جاں عشق

یہی تو اعتبارِ شب کدہ ہے

مِرا حاصل ہے یہ کارِ زیاں عشق


فیصل عظیم

No comments:

Post a Comment