بیٹھے بٹھائے آج پھر کس کا خیال آ گیا
چہرے کا رنگ اڑ گیا، رنگِ ملال آ گیا
الجھن میں پڑ گیا ہوں میں دل کا کروں تو کیا کروں
شیشہ نہیں یہ کام کا، اس میں تو بال آ گیا
پورا نہ کر سکوں گا اب، تجھ سے کبھی مکالمہ
آنکھیں تھیں محوِ گفتگو، دل کا سوال آ گیا
تُو بھی فریادی ہوا تھا، التجا میں نے بھی کی
تُو نہ تھا مجرم اکیلا، ہاں خطا میں نے بھی کی
ظلم دونوں نے کیا تھا، دونوں تھے اس میں شریک
ابتداء گر تُو نے کی، تو انتہا میں نے بھی کی
صرف تُو نے ہی نہیں کی جستجوئے چارہ گر
درد جب حد سے بڑھا تو کچھ دوا میں نے بھی کی
منظر روز بدل دیتا ہوں اپنی نرم خیالی سے
شام شفق میں ڈھل جاتی ہے رنگِ حنا کی لالی سے
تجھ سے بچھڑ کر زندہ رہنا، اپنے سوگ میں جینا ہے
دل اِک پھُول تھا خُوشبُو والا، ٹُوٹ گیا ہے ڈالی سے
شہرِ طرب کو جانے کس کی نظر لگی ہے آج کی شب
رستے بھی ویران پڑے ہیں، گھر لگتے ہیں خالی سے
ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے
بہت کچھ بھول جائیں گے بہت کچھ یاد رکھیں گے
ابھی کچھ اور کرتب دیکھنے بھی ہیں، دکھانے بھی
تماشا گاہِ عالم! ہم تجھے آباد رکھیں گے
اگر گھر کا خیال آیا تو رستہ بھُول جائیں گے
سفر میں دشت کو جاتے ہوئے ہم یاد رکھیں گے
کیسے بدل رہے ہو بتاتا نہیں ہے کیا
آئینہ کوئی تم کو دِکھاتا نہیں ہے کیا
خلقِ خدا کا خوف تو دل میں نہیں رہا
تم کو خدا کا خوف بھی آتا نہیں ہے کیا
تاریک لگ رہی ہے ہے شبِ ماہتاب بھی
کوئی یہاں چراغ جلاتا نہیں ہے کیا