Showing posts with label عبید صدیقی. Show all posts
Showing posts with label عبید صدیقی. Show all posts

Friday, 22 December 2017

ہوائے شام نہ جانے کہاں سے آتی ہے

ہوائے شام نہ جانے کہاں سے آتی ہے 
وہاں گلاب بہت ہیں جہاں سے آتی ہے 
یہ کس کا چہرہ دمکتا ہے میری آنکھوں میں 
یہ کس کی یاد مجھے کہکشاں سے آتی ہے 
اسی فلک سے اترتا ہے یہ اندھیرا بھی 
یہ روشنی بھی اسی آسماں سے آتی ہے 

آنکھوں میں اک خواب ہے اس کو یہیں سجاؤں گا

آنکھوں میں اک خواب ہے اس کو یہیں سجاؤں گا 
تھوڑی زمیں ملی تو اک دن باغ لگاؤں گا 
شہر جو تم یہ دیکھ رہے ہو اس میں کئی ہیں شہر 
میرے ساتھ ذرا نکلو تو سیر کراؤں گا 
میرے لیے یہ دیوار و در جیسے ہیں اچھے ہیں 
اس گھر کی آرائش کر کے کسے دکھاؤں گا 

خواب آنکھوں میں سوالی ہی رہے

خواب آنکھوں میں سوالی ہی رہے 
کاسۂ تعبیر خالی ہی رہے 
رقص کرتی خواہشوں کے زیرپا 
دل شکار پائمالی ہی رہے 
خاک ہو جاتے لہو کی آگ میں 
جسم کے کوزے سفالی ہی رہے

Tuesday, 19 December 2017

نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہت

نقصان کیا بتائیں ہمارا کِیا بہت 
اس کاروبارِ دل نے خسارا کیا بہت 
چاروں طرف تھے پھول شفق کے کھلے ہوئے 
جس شام آسماں کا نظارا کیا بہت 
اب کیا کروں کہ شور میں آواز دب گئی 
میں اس کو شہرِ جاں میں پکارا کیا بہت 

میں خواب اپنے سارے نیلام کر رہا ہوں

میں خواب اپنے سارے نیلام کر رہا ہوں 
اور یہ بھی جان لو کہ بے دام کر رہا ہوں 
اس سے غرض نہیں ہے بولی لگے گی کیسے 
جو کام کرنا ہے، بس وہ کام کر رہا ہوں 
وہ سب کہانیاں جو پوری نہیں ہوئی تھیں 
تحریر آج ان کا انجام کر رہا ہوں 

کب تک اس کا ہجر مناتا صحرا چھوڑ دیا

کب تک اس کا ہجر مناتا صحرا چھوڑ دیا 
جینے کی امید میں میں نے کیا کیا چھوڑ دیا 
میرے ساتھ لگا رہتا ہے یادوں کا بادل 
دھوپ بھرے رستوں پر اس نے سایہ چھوڑ دیا 
ہر چہرے پر اک چہرے کا دھوکہ ہوتا ہے 
کس نے مجھ کو اس بستی میں تنہا چھوڑ دیا 

Thursday, 8 October 2015

بیٹھے بٹھائے آج پھر کس کا خیال آ گیا

بیٹھے بٹھائے آج پھر کس کا خیال آ گیا
چہرے کا رنگ اڑ گیا، رنگِ ملال آ گیا
الجھن میں پڑ گیا ہوں میں دل کا کروں تو کیا کروں
شیشہ نہیں یہ کام کا، اس میں تو بال آ گیا
پورا نہ کر سکوں گا اب، تجھ سے کبھی مکالمہ
آنکھیں تھیں محوِ گفتگو، دل کا سوال آ گیا

تو بھی فریادی ہوا تھا التجا میں نے بھی کی

تُو بھی فریادی ہوا تھا، التجا میں نے بھی کی
تُو نہ تھا مجرم اکیلا، ہاں خطا میں نے بھی کی
ظلم دونوں نے کیا تھا، دونوں تھے اس میں شریک
ابتداء گر تُو نے کی، تو انتہا میں نے بھی کی
صرف تُو نے ہی نہیں کی جستجوئے چارہ گر
درد جب حد سے بڑھا تو کچھ دوا میں نے بھی کی

منظر روز بدل دیتا ہوں اپنی نرم خیالی سے

منظر روز بدل دیتا ہوں اپنی نرم خیالی سے
شام شفق میں ڈھل جاتی ہے رنگِ حنا کی لالی سے
تجھ سے بچھڑ کر زندہ رہنا، اپنے سوگ میں جینا ہے
دل اِک پھُول تھا خُوشبُو والا، ٹُوٹ گیا ہے ڈالی سے
شہرِ طرب کو جانے کس کی نظر لگی ہے آج کی شب
رستے بھی ویران پڑے ہیں، گھر لگتے ہیں خالی سے

ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے

ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے
بہت کچھ بھول جائیں گے بہت کچھ یاد رکھیں گے
ابھی کچھ اور کرتب دیکھنے بھی ہیں، دکھانے بھی
تماشا گاہِ عالم! ہم تجھے آباد رکھیں گے
اگر گھر کا خیال آیا تو رستہ بھُول جائیں گے
سفر میں دشت کو جاتے ہوئے ہم یاد رکھیں گے

کیسے بدل رہے ہو بتاتا نہیں ہے کیا

کیسے بدل رہے ہو بتاتا نہیں ہے کیا
آئینہ کوئی تم کو دِکھاتا نہیں ہے کیا
خلقِ خدا کا خوف تو دل میں نہیں رہا
تم کو خدا کا خوف بھی آتا نہیں ہے کیا
تاریک لگ رہی ہے ہے شبِ ماہتاب بھی
کوئی یہاں چراغ جلاتا نہیں ہے کیا