Showing posts with label حلیم ‌قریشی. Show all posts
Showing posts with label حلیم ‌قریشی. Show all posts

Tuesday, 30 November 2021

بہری سماعتوں کا بیاں کس کے پاس ہے

 بہری سماعتوں کا بیاں کس کے پاس ہے

یہ کون بولتا ہے، بیاں کس کے پاس ہے

سب جانتے ہوئے بھی لگے تیر جب ہمیں

ہر اک سے پوچھتے ہیں کماں کس کے پاس ہے

کس نے محبتوں میں نبھائی ہے دیکھ لے

شعلے ہیں کس کے پاس، دھواں کس کے پاس ہے

Monday, 15 November 2021

گھر سے نکل پڑے ہیں تو ڈر پیچھے رہ گیا

 گھر سے نکل پڑے ہیں تو ڈر پیچھے رہ گیا

اب دشت ہی مکان ہے، پیچھے رہ گیا

سارے مسافروں کے قدم ہیں رکے رکے

جیسے سبھی کا زادِ سفر پیچھے رہ گیا

کٹ کر بدن تو غیر کے آنگن میں جا گرا

لیکن انا کے زور پہ سر پیچھے رہ گیا

Friday, 12 November 2021

ٹوٹی پھوٹی شاخوں میں جو اٹکے اٹکے پر ہوتے ہیں

 ٹوٹی پھوٹی شاخوں میں جو اٹکے اٹکے پر ہوتے ہیں

پیڑوں کی بھی اک دنیا ہے پیڑوں میں بھی گھر ہوتے ہیں

باتیں اس کی پہنچ گئی ہوں، اس کو باتیں پہنچ نہ جائیں

دیکھ محبت! عہد میں تیرے کیسے کیسے ڈر ہوتے ہیں

غم تنہا جب دیکھے گا،۔ حملہ آور ہو جائے گا

تلواریں تب بھی چلتی ہیں جب ہم ننگے سر ہوتے ہیں

Thursday, 11 November 2021

کمرہ تو یہ کہتا ہے کچھ اور ہوا آئے

 کمرہ تو یہ کہتا ہے کچھ اور ہوا آئے

کھڑکی سے نہ گزرے تو دیوار ہٹا آئے

سر پر ہے سفر اتنا خاموش ہو تم جتنا

جیتے ہو کہ مرتے ہو کوئی تو صدا آئے

آگے جو قدم رکھا پیچھے کا نہ غم رکھا

جس راہ سے ہم گزرے دیوار اٹھا آئے

Tuesday, 9 November 2021

موسم ہجر کے آنے کے شکایت نہیں کی

 موسمِ ہجر کے آنے کے شکایت نہیں کی 

اے مِرے دل تجھے کیا ہو گیا وحشت نہیں کی 

کوئی الزام،۔ کوئی طنز،۔ کوئی رسوائی 

دن بہت ہو گئے یاروں نے عنایت نہیں کی 

لفظ کے شوق میں ایسا بھی مقام آیا ہے 

جُز کسی شعر کی آمد کوئی حسرت نہیں کی 

Tuesday, 3 November 2015

جو کچھ بچا ہے اس کو سمیٹو چلو چلیں

جو کچھ بچا ہے اس کو سمیٹو چلو چلیں
 اب راکھ ہی کو تکتے رہو گے اٹھو چلیں
جن کے لیے یہ ساری مصیبت اٹھائی ہے
آگے بھی اور کام ہیں ان سے کہو چلیں
چلتے رہے تو لوگ بھی چلتے رہیں گے ساتھ
اب کس کا انتظار ہے، میری سنو چلیں