بہری سماعتوں کا بیاں کس کے پاس ہے
یہ کون بولتا ہے، بیاں کس کے پاس ہے
سب جانتے ہوئے بھی لگے تیر جب ہمیں
ہر اک سے پوچھتے ہیں کماں کس کے پاس ہے
کس نے محبتوں میں نبھائی ہے دیکھ لے
شعلے ہیں کس کے پاس، دھواں کس کے پاس ہے
بہری سماعتوں کا بیاں کس کے پاس ہے
یہ کون بولتا ہے، بیاں کس کے پاس ہے
سب جانتے ہوئے بھی لگے تیر جب ہمیں
ہر اک سے پوچھتے ہیں کماں کس کے پاس ہے
کس نے محبتوں میں نبھائی ہے دیکھ لے
شعلے ہیں کس کے پاس، دھواں کس کے پاس ہے
گھر سے نکل پڑے ہیں تو ڈر پیچھے رہ گیا
اب دشت ہی مکان ہے، پیچھے رہ گیا
سارے مسافروں کے قدم ہیں رکے رکے
جیسے سبھی کا زادِ سفر پیچھے رہ گیا
کٹ کر بدن تو غیر کے آنگن میں جا گرا
لیکن انا کے زور پہ سر پیچھے رہ گیا
ٹوٹی پھوٹی شاخوں میں جو اٹکے اٹکے پر ہوتے ہیں
پیڑوں کی بھی اک دنیا ہے پیڑوں میں بھی گھر ہوتے ہیں
باتیں اس کی پہنچ گئی ہوں، اس کو باتیں پہنچ نہ جائیں
دیکھ محبت! عہد میں تیرے کیسے کیسے ڈر ہوتے ہیں
غم تنہا جب دیکھے گا،۔ حملہ آور ہو جائے گا
تلواریں تب بھی چلتی ہیں جب ہم ننگے سر ہوتے ہیں
کمرہ تو یہ کہتا ہے کچھ اور ہوا آئے
کھڑکی سے نہ گزرے تو دیوار ہٹا آئے
سر پر ہے سفر اتنا خاموش ہو تم جتنا
جیتے ہو کہ مرتے ہو کوئی تو صدا آئے
آگے جو قدم رکھا پیچھے کا نہ غم رکھا
جس راہ سے ہم گزرے دیوار اٹھا آئے
موسمِ ہجر کے آنے کے شکایت نہیں کی
اے مِرے دل تجھے کیا ہو گیا وحشت نہیں کی
کوئی الزام،۔ کوئی طنز،۔ کوئی رسوائی
دن بہت ہو گئے یاروں نے عنایت نہیں کی
لفظ کے شوق میں ایسا بھی مقام آیا ہے
جُز کسی شعر کی آمد کوئی حسرت نہیں کی