دِیوں سے وعدے وہ کر رہی تھی عجیب رُت تھی
ہوا چراغوں سے ڈر رہی تھی عجیب رت تھی
بڑی حویلی کے گیٹ آگے دریدہ دامن
غریب لڑکی جو مر رہی تھی عجیب رت تھی
ٹھٹھرتی شب میں وداعی سیٹی کی گُونج سن کر
یہ آنکھ پانی سے بھر رہی تھی عجیب رت تھی
دِیوں سے وعدے وہ کر رہی تھی عجیب رُت تھی
ہوا چراغوں سے ڈر رہی تھی عجیب رت تھی
بڑی حویلی کے گیٹ آگے دریدہ دامن
غریب لڑکی جو مر رہی تھی عجیب رت تھی
ٹھٹھرتی شب میں وداعی سیٹی کی گُونج سن کر
یہ آنکھ پانی سے بھر رہی تھی عجیب رت تھی
پھول، خوشبو، ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو
سب کے آنگن میں چہکتی بیٹیوں کی خیر ہو
جتنے میٹھے لہجے ہیں سب گیت ہوں گے ایک دن
میٹھے لہجوں سے مہکتی بولیوں کی خیر ہو
چنریوں میں خواب لے کر چل پڑی ہیں بیٹیاں
ان پرائے دیس جاتی ڈولیوں کی خیر ہو
بُجھتی ہوئی آنکھوں کا اکیلا وہ دِیا🪔 تھا
ہجراں کی کڑی شب میں اذیت سے لڑا تھا
رُکتا ہی نہیں تجھ پہ نگاہوں کا تسلسل
کل شام تِرے ہاتھ میں کنگن بھی نیا تھا
اک چشمِ توجہ سے اُدھڑتا ہی گیا تھا
وہ زخم کہ جس کو بڑی محنت سے سِیا تھا
کنائے کچھ ملے جب مصحفی سے
اٹھائے لفظ دکن کے ولی سے
ملے کیسے، بتانا ہی کسے ہے؟
گُہر درویش کی دریا دلی سے
نہیں بھایا فلک کے رہ نوردو
تمہاری راہ چلنا کج روی سے
جس جگہ آگہی مقیّد ہے
اس جگہ زندگی مقید ہے
بجھ رہے ہیں گلاب سے چہرے
کیا یہاں تازگی مقید ہے
چاند جس کا طواف کرتا تھا
اب وہاں خاک سی مقید ہے
پھڑپھڑاتا ہوا پرندہ ہے
مان لو کہ دعا پرندہ ہے
اس کڑی دھوپ میں مِرے ہمراہ
ریت، آنسو، ہوا پرندہ ہے
خواہشوں کا سفر نہیں رکتا
یہ عجب بھاگتا پرندہ ہے
جاگتی شب خدا حافظ
جا چکے سب خدا حافظ
دشت مجھ کو بلاتا ہے
زندگی اب خدا حافظ
راستہ روکتے کیوں ہو
کہہ دیا جب خدا حافظ