Showing posts with label احمد سجاد بابر. Show all posts
Showing posts with label احمد سجاد بابر. Show all posts

Sunday, 27 February 2022

دیوں سے وعدے وہ کر رہی تھی عجیب رت تھی

دِیوں سے وعدے وہ کر رہی تھی عجیب رُت تھی

ہوا چراغوں سے ڈر رہی تھی عجیب رت تھی

بڑی حویلی کے گیٹ آگے دریدہ دامن

غریب لڑکی جو مر رہی تھی عجیب رت تھی

ٹھٹھرتی شب میں وداعی سیٹی کی گُونج سن کر

یہ آنکھ پانی سے بھر رہی تھی عجیب رت تھی

Saturday, 27 February 2021

پھول خوشبو ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو

 پھول، خوشبو، ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو

سب کے آنگن میں چہکتی بیٹیوں کی خیر ہو

جتنے میٹھے لہجے ہیں سب گیت ہوں گے ایک دن

میٹھے لہجوں سے مہکتی بولیوں کی خیر ہو

چنریوں میں خواب لے کر چل پڑی ہیں بیٹیاں

ان پرائے دیس جاتی ڈولیوں کی خیر ہو

Thursday, 25 February 2021

بجھتی ہوئی آنکھوں کا اکیلا وہ دیا تھا

 بُجھتی ہوئی آنکھوں کا اکیلا وہ دِیا🪔 تھا

ہجراں کی کڑی شب میں اذیت سے لڑا تھا

رُکتا ہی نہیں تجھ پہ نگاہوں کا تسلسل

کل شام تِرے ہاتھ میں کنگن بھی نیا تھا

اک چشمِ توجہ سے اُدھڑتا ہی گیا تھا

وہ زخم کہ جس کو بڑی محنت سے سِیا تھا

Wednesday, 24 February 2021

کنائے کچھ ملے جب مصحفی سے

 کنائے کچھ ملے جب مصحفی سے

اٹھائے لفظ دکن کے ولی سے

ملے کیسے، بتانا ہی کسے ہے؟

گُہر درویش کی دریا دلی سے

نہیں بھایا فلک کے رہ نوردو

تمہاری راہ چلنا کج روی سے

Tuesday, 23 February 2021

جس جگہ آگہی مقید ہے

 جس جگہ آگہی مقیّد ہے

اس جگہ زندگی مقید ہے

بجھ رہے ہیں گلاب سے چہرے

کیا یہاں تازگی مقید ہے

چاند جس کا طواف کرتا تھا

اب وہاں خاک سی مقید ہے

پھڑپھڑاتا ہوا پرندہ ہے مان لو کہ دعا پرندہ ہے

 پھڑپھڑاتا ہوا پرندہ ہے

مان لو کہ دعا پرندہ ہے

اس کڑی دھوپ میں مِرے ہمراہ

ریت، آنسو، ہوا پرندہ ہے

خواہشوں کا سفر نہیں رکتا

یہ عجب بھاگتا پرندہ ہے

Saturday, 20 February 2021

جاگتی شب خدا حافظ

 جاگتی شب خدا حافظ

جا چکے سب خدا حافظ

دشت مجھ کو بلاتا ہے

زندگی اب خدا حافظ

راستہ روکتے کیوں ہو

کہہ دیا جب خدا حافظ