Showing posts with label فیض. Show all posts
Showing posts with label فیض. Show all posts

Monday, 21 September 2020

گر کسی طور ہر اک الفت جاناں کا خیال

 نسخۂ الفت میرا


گر کسی طور ہر اک الفتِ جاناں کا خیال

شعر میں ڈھل کے ثنائے رخِ جاناں نہ بنے

پھر تو یوں ہو کہ مِرے شعر و سخن کا دفتر

طول میں طولِ شبِ ہجر کا افسانہ بنے

ہے بہت تشنہ مگر نسخۂ الفت میرا

Sunday, 20 September 2020

مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں

 آرزو


مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں

مگر آرزو ہے کہ جب قضا

مجھے بزمِ دہر سے لے چلے

تو پھر ایک بار یہ اذن دے

کہ لحد سے لوٹ کے آ سکوں

تِرے در پہ آ کے صدا کروں

اک شکاری ہے دن اک شکاری ہے رات

 تیرگی جال ہے اور بھالا ہے نور


اک شکاری ہے دن، اک شکاری ہے رات

جگ سمندر ہے جس میں کنارے سے دور

مچھلیوں کی طرح ابنِ آدم کی ذات

جگ سمندر ہے،ساحل پہ ہیں ماہی گیر

جال تھامے کوئی، کوئی بھالا لیے

میری باری کب آئے گی کیا جانیے

برکھا برسے چھت پر میں تیرے سپنے دیکھوں

 میں تیرے سپنے دیکھوں


برکھا برسے چھت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں

برف گرے پربت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں

صبح کی نیل پری، میں تیرے سپنے دیکھوں

کوئل دھوم مچائے، میں تیرے سپنے دیکھوں

آئے اور اڑ جائے، میں تیرے سپنے دیکھوں

باغوں میں پتے مہکیں، میں تیرے سپنے دیکھوں

Saturday, 19 September 2020

شاعر کا جشن سالگرہ ہے شراب لا

 سالگرہ


شاعر کا جشنِ سالگرہ ہے، شراب لا

منصب، خطاب، رتبہ انہیں کیا نہیں ملا

بس نقص ہے تو اتنا کہ ممدوح نے کوئی

مصرع کسی کتاب کے شایاں نہیں لکھا


رسول حمزہ توف

اردو ترجمہ؛ فیض احمد فیض

آج سے بارہ برس پہلے بڑا بھائی مرا

 بھائی


آج سے بارہ برس پہلے بڑا بھائی مِرا

سٹالن گراڈ کی جنگاہ میں کام آیا تھا

میری ماں اب بھی لیے پھرتی ہے پہلو میں یہ غم

جب سے اب تک ہے وہ تن پہ ردائے ماتم

اور اس دکھ سے میری آنکھ کا گوشہ تر ہے

اب میری عمر بڑے بھائی سے کچھ بڑھ کر ہے

میرے آبا کہ تھے نامحرم طوق و زنجیر

 بہ نوک شمشیر 


میرے آباء کہ تھے نامحرمِ طوق و زنجیر

وہ مضامیں جو ادا کرتا ہے اب میرا قلم

نوکِ شمشیر پہ لکھتے تھے بہ نوکِ شمشیر

روشنائی سے جو میں کرتا ہوں کاغذ پہ رقم

سنگ و صحرا پہ وہ کرتے تھے لہو سے تحریر

اس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا

داغستانی خاتون اور اس کا شاعر بیٹا


اس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا

اس کی ہر بات میں سمجھتی تھی

اب وہ شاعر بنا ہے نام خدا

لیکن افسوس کوئی بات اس کی

مِرے پلے ذرا نہیں پڑتی


رسول حمزہ توف

اردو ترجمہ؛ فیض احمد فیض