Sunday, 20 September 2020

اک شکاری ہے دن اک شکاری ہے رات

 تیرگی جال ہے اور بھالا ہے نور


اک شکاری ہے دن، اک شکاری ہے رات

جگ سمندر ہے جس میں کنارے سے دور

مچھلیوں کی طرح ابنِ آدم کی ذات

جگ سمندر ہے،ساحل پہ ہیں ماہی گیر

جال تھامے کوئی، کوئی بھالا لیے

میری باری کب آئے گی کیا جانیے

دن کے بھالے سے مجھ کو کریں گے شکار

رات کے جال میں یا کریں گے اسیر؟


رسول حمزہ توف

اردو ترجمہ؛ فیض احمد فیض

No comments:

Post a Comment