حصار شہر میں رسوائیاں ہیں اور میں ہوں
زمانے کی کرم فرمائیاں ہیں اور میں ہوں
سنہرا خواب ہے تنہائیاں ہیں اور میں ہوں
نظر میں دور تک رعنائیاں ہیں اور میں ہوں
یہ کون آیا در و دیوار گھر کے مسکرائے
خوشی سے وجد میں انگنائیاں ہیں اور میں ہوں
حصار شہر میں رسوائیاں ہیں اور میں ہوں
زمانے کی کرم فرمائیاں ہیں اور میں ہوں
سنہرا خواب ہے تنہائیاں ہیں اور میں ہوں
نظر میں دور تک رعنائیاں ہیں اور میں ہوں
یہ کون آیا در و دیوار گھر کے مسکرائے
خوشی سے وجد میں انگنائیاں ہیں اور میں ہوں
حق پسند لوگوں نے جب فریب کھایا ہے
وقت کے یزیدوں نے اپنا سر اٹھایا ہے
تشنگی کا ماتم کیوں ہاتھ میں سمندر رکھ
معجزہ یہ آدم نے بارہا دکھایا ہے
روشنی کا سورج ہے کرب کے سمندر میں
بے کسی کے آنگن میں ظلمتوں کا سایا ہے
خدا کریم ہے اتنا کرم ہی فرمائے
میں اس کو بھولنا چاہوں وہ مجھ کو یاد آئے
فضا میں نور ہواؤں میں اس کی خوشبو ہے
ٹھہر اے وقت! کہ جان بہار آ جائے
وفا خلوص و محبت کی یہ امانت ہے
غم حیات کی سرخی جبیں پہ لہرائے