Showing posts with label مختار جاوید. Show all posts
Showing posts with label مختار جاوید. Show all posts

Friday, 27 March 2026

ابر بے وجہ نہیں دشت کے اوپر آئے

 ابر بے وجہ نہیں دشت کے اوپر آئے

اک دعا اور کہ بارش کی دعا بر آئے

آنکھ رکھتے ہوئے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم نے

ورنہ منزل سے حسیں راہ میں منظر آئے

کوئی امکان کہ جاگے کبھی لوہے کا ضمیر

اور قاتل کی طرف لوٹ کے خنجر آئے

Friday, 15 November 2024

ہدف ہوں دشمن جاں کی نظر میں رہتا ہوں

 ہدف ہوں دشمنِ جاں کی نظر میں رہتا ہوں

کسے خبر ہے قفس میں کہ گھر میں رہتا ہوں

اِدھر اُدھر کے کنارے مجھے بلاتے ہیں

مگر میں اپنی خوشی سے بھنور میں رہتا ہوں

نہ میں زمیں ہوں نہ تو آفتاب ہے پھر بھی

تِرے طواف کی خاطر سفر میں رہتا ہوں

Sunday, 1 September 2024

خدا کی ذات نے جب درد کا نزول کیا

 خدا کی ذات نے جب درد کا نزُول کیا

مِرے سوا نہ کسی اور نے قبول کیا

اگرچہ ایک قبیلے کے فرد ہیں دونوں

تجھے گُلاب بنایا، مجھے ببُول کیا

کبھی یہ غم کہ ادھُورا رہا ہمارا کام

کبھی یہ سوچ کہ جتنا کیا فضُول کیا

Friday, 30 August 2024

معیار کو اٹھاؤں تو کردار گر پڑے

 معیار کو اٹھاؤں تو کردار گر پڑے

چھت کو سنبھالتا ہوں تو دیوار گر پڑے

تُو اور کیا بلند ہو، میں اور کیا گروں

دیکھوں بھی تیری سمت تو دستار گر پڑے

ایسا کوئی کمال کہ میدانِ جنگ میں

ہر جنگجُو کے ہاتھ سے تلوار گر پڑے