ابر بے وجہ نہیں دشت کے اوپر آئے
اک دعا اور کہ بارش کی دعا بر آئے
آنکھ رکھتے ہوئے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم نے
ورنہ منزل سے حسیں راہ میں منظر آئے
کوئی امکان کہ جاگے کبھی لوہے کا ضمیر
اور قاتل کی طرف لوٹ کے خنجر آئے
ابر بے وجہ نہیں دشت کے اوپر آئے
اک دعا اور کہ بارش کی دعا بر آئے
آنکھ رکھتے ہوئے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم نے
ورنہ منزل سے حسیں راہ میں منظر آئے
کوئی امکان کہ جاگے کبھی لوہے کا ضمیر
اور قاتل کی طرف لوٹ کے خنجر آئے
ہدف ہوں دشمنِ جاں کی نظر میں رہتا ہوں
کسے خبر ہے قفس میں کہ گھر میں رہتا ہوں
اِدھر اُدھر کے کنارے مجھے بلاتے ہیں
مگر میں اپنی خوشی سے بھنور میں رہتا ہوں
نہ میں زمیں ہوں نہ تو آفتاب ہے پھر بھی
تِرے طواف کی خاطر سفر میں رہتا ہوں
خدا کی ذات نے جب درد کا نزُول کیا
مِرے سوا نہ کسی اور نے قبول کیا
اگرچہ ایک قبیلے کے فرد ہیں دونوں
تجھے گُلاب بنایا، مجھے ببُول کیا
کبھی یہ غم کہ ادھُورا رہا ہمارا کام
کبھی یہ سوچ کہ جتنا کیا فضُول کیا
معیار کو اٹھاؤں تو کردار گر پڑے
چھت کو سنبھالتا ہوں تو دیوار گر پڑے
تُو اور کیا بلند ہو، میں اور کیا گروں
دیکھوں بھی تیری سمت تو دستار گر پڑے
ایسا کوئی کمال کہ میدانِ جنگ میں
ہر جنگجُو کے ہاتھ سے تلوار گر پڑے