تمام احباب کو عید کی مبارک ہو
آ جائے وہ ملنے تو مجھے عید مبارک
مت آئے، بہر حال اسے عید مبارک
ایسا ہو سب انسان ہوں خوش اتنے کہ ہر روز
اک دوسرے سے کہتا پھرے؛ عید مبارک
ہاں مجھ سے جسے جس سے مجھے جو بھی گلہ ہو
آباد رہے شاد رہے؛ عید مبارک
تمام احباب کو عید کی مبارک ہو
آ جائے وہ ملنے تو مجھے عید مبارک
مت آئے، بہر حال اسے عید مبارک
ایسا ہو سب انسان ہوں خوش اتنے کہ ہر روز
اک دوسرے سے کہتا پھرے؛ عید مبارک
ہاں مجھ سے جسے جس سے مجھے جو بھی گلہ ہو
آباد رہے شاد رہے؛ عید مبارک
ورنہ کیا آب و ہوا چیز ہے کیسا موسم
تیرے آنے سے ہوا شہر میں اچھا موسم
یہ مہ و مہر اضافی ہیں تِرے سر کی قسم
وقت بتلاتی ہیں آنکھیں تِری چہرا موسم
دھوپ میں چھاؤں کہیں موج میں طوفان کہیں
جیسا اے دوست! تِرا موڈ ہے ویسا موسم
دعا ہتھیلیوں کے درمیاں بناؤں گا
زمیں کے مشورے سے آسماں بناؤں گا
یہ سب پیڑ، مِرے سر بلند پرچم لوگ
یہ جھنڈے گاڑیں گے، میں جھنڈیاں بناؤں گا
شفق سے شال بنا لوں زمیں ماں کے لیے
فلک سے بھائیوں کی پگڑیاں بناؤں گا
سُنا ہے مرتے نہیں پیار میں انارکلی
تو کیسا لگتا ہے دیوار میں انارکلی؟
تمہارے جسم پہ مرضی تمہاری چلتی ہے
سو کُھل کے بیٹھو بڑی کار میں انارکلی
سفید شرٹ میں لگتی ہو تم کپاس کا پھول
اور آج سُرمئی شلوار میں انارکلی
محوِ نیند کیا جانے کہ تعبیر کیسی ہے
غم جھیل کے جانا کہ یہ تاثیر کیسی ہے
بِن سائے یہ گزری میری ذاتِ بے نشاں
بِن روح یہ بے جان سی تصویر کیسی ہے
چلتی ہے زار زار اِس قلبِ مضطرب پہ
عجب یہ تیری یادوں کی شمشیر کیسی ہے
دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مِرے دوست
کئی صحرا مِرے ہمدم کئی دریا مِرے دوست
تُو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو
اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست
تیری آنکھوں پہ مِرا خواب سفر ختم ہوا
جیسے ساحل پہ اتر جائے سفینہ مرے دوست
وہ شورشیں کہ سمندر کا رخ بدلنا ہے
یہ خواہشیں کہ کنارہ تِرا خیال رکھے
سکھا رہا ہوں، کہ سورج کا موڈ آف بھی ہو
تو کوئی اور ستارہ تِرا خیال رکھے
یہ پَل، کواڑوں پہ جس کے کبھی نہ دستک ہو
کوئی نہ ہو جو ہمارا تِرا خیال رکھے
یہ نہر اس کی ہے، اس کا کنارا اس کا ہے
وہ جس کے ساتھ ہے، لاہور سارا اس کا ہے
یہی ذرا سا تعلق ہمارا اس کا ہے
ہمارا ہے نہ اکیلے گزارا اس کا ہے
اداسیوں میں بلیو ایریا ہے اس کا بہت
اور آنسوؤں میں کہیں آبپارا اس کا ہے
مشہور تو بس ایک دیا ہے مِرے دل میں
کتنے ہی ستاروں کی جگہ ہے مرے دل میں
تم نے تو حکایات ہی سن رکھی ہیں، ورنہ
وہ شہر وہ خیمے وہ سرا ہے مرے دل میں
میں راہ سے بھٹکوں تو کھٹکتی ہے کوئی بات
جس طرح کوئی سمت نما ہے مرے دل میں
ٹکٹ
تم مِرے پاس تو نہیں پھر بھی
فون کے دوسری طرف ہو گی
جیسے اک آسمان چاروں طرف
تم ہو میرے لیے ہزاروں طرف
یہی ہوتا ہے کال کا مقصد
ان کہے اک سوال کا مقصد
انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں
یہ سوچنے بیٹھیں تو پریشانی سے مر جائیں
وہ جن کو میسر تھی ہر اک چیزے دگر بھی
ممکن ہے سہولت کی فراوانی سے مر جائیں
کشتی پہ تھے، کشتی کو جلاتے ہوئے حضرات
اب آگ سے بچ جائیں بھلے پانی سے مر جائیں
ایک دن خواب نگر جانا ہے
اور یونہی خاک بسر جانا ہے
عمر بھر کی یہ جو ہے بے خوابی
یہ اسی خواب کا ہرجانا ہے
گھر سے کس وقت چلے تھے ہم لوگ
خیر اب کون سا گھر جانا ہے