Showing posts with label ادریس بابر. Show all posts
Showing posts with label ادریس بابر. Show all posts

Saturday, 9 July 2022

آ جائے وہ ملنے تو مجھے عید مبارک

 تمام احباب کو عید کی مبارک ہو


آ جائے وہ ملنے تو مجھے عید مبارک

مت آئے، بہر حال اسے عید مبارک

ایسا ہو سب انسان ہوں خوش اتنے کہ ہر روز

اک دوسرے سے کہتا پھرے؛ عید مبارک

ہاں مجھ سے جسے جس سے مجھے جو بھی گلہ ہو

آباد رہے شاد رہے؛ عید مبارک

Wednesday, 20 April 2022

ورنہ کیا آب و ہوا چیز ہے کیسا موسم

 ورنہ کیا آب و ہوا چیز ہے کیسا موسم

تیرے آنے سے ہوا شہر میں اچھا موسم

یہ مہ و مہر اضافی ہیں تِرے سر کی قسم

وقت بتلاتی ہیں آنکھیں تِری چہرا موسم

دھوپ میں چھاؤں کہیں موج میں طوفان کہیں

جیسا اے دوست! تِرا موڈ ہے ویسا موسم

Wednesday, 23 February 2022

دعا ہتھیلیوں کے درمیاں بناؤں گا

 دعا ہتھیلیوں کے درمیاں بناؤں گا

زمیں کے مشورے سے آسماں بناؤں گا

یہ سب پیڑ، مِرے سر بلند پرچم لوگ

یہ جھنڈے گاڑیں گے، میں جھنڈیاں بناؤں گا

شفق سے شال بنا لوں زمیں ماں کے لیے

فلک سے بھائیوں کی پگڑیاں بناؤں گا

Tuesday, 11 January 2022

سنا ہے مرتے نہیں پیار میں انارکلی

 سُنا ہے مرتے نہیں پیار میں انارکلی

تو کیسا لگتا ہے دیوار میں انارکلی؟

تمہارے جسم پہ مرضی تمہاری چلتی ہے

سو کُھل کے بیٹھو بڑی کار میں انارکلی

سفید شرٹ میں لگتی ہو تم کپاس کا پھول

اور آج سُرمئی شلوار میں انارکلی

Saturday, 11 September 2021

محو نیند کیا جانے کہ تعبیر کیسی ہے

 محوِ نیند کیا جانے کہ تعبیر کیسی ہے

غم جھیل کے جانا کہ یہ تاثیر کیسی ہے

بِن سائے یہ گزری میری ذاتِ بے نشاں

بِن روح یہ بے جان سی تصویر کیسی ہے

چلتی ہے زار زار اِس قلبِ مضطرب پہ

عجب یہ تیری یادوں کی شمشیر کیسی ہے

Saturday, 10 April 2021

دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست

 دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مِرے دوست

کئی صحرا مِرے ہمدم کئی دریا مِرے دوست

تُو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو

اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست

تیری آنکھوں پہ مِرا خواب سفر ختم ہوا

جیسے ساحل پہ اتر جائے سفینہ مرے دوست

Thursday, 8 April 2021

وہ شورشیں کہ سمندر کا رخ بدلنا ہے

 وہ شورشیں کہ سمندر کا رخ بدلنا ہے

یہ خواہشیں کہ کنارہ تِرا خیال رکھے

سکھا رہا ہوں، کہ سورج کا موڈ آف بھی ہو

تو کوئی اور ستارہ تِرا خیال رکھے

یہ پَل، کواڑوں پہ جس کے کبھی نہ دستک ہو

کوئی نہ ہو جو ہمارا تِرا خیال رکھے

Friday, 5 February 2021

یہ نہر اس کی ہے اس کا کنارا اس کا ہے

 یہ نہر اس کی ہے، اس کا کنارا اس کا ہے

وہ جس کے ساتھ ہے، لاہور سارا اس کا ہے

یہی ذرا سا تعلق ہمارا اس کا ہے

ہمارا ہے نہ اکیلے گزارا اس کا ہے

اداسیوں میں بلیو ایریا ہے اس کا بہت

اور آنسوؤں میں کہیں آبپارا اس کا ہے

Wednesday, 3 February 2021

مشہور تو بس ایک دیا ہے مرے دل میں

 مشہور تو بس ایک دیا ہے مِرے دل میں

کتنے ہی ستاروں کی جگہ ہے مرے دل میں

تم نے تو حکایات ہی سن رکھی ہیں، ورنہ

وہ شہر وہ خیمے وہ سرا ہے مرے دل میں

میں راہ سے بھٹکوں تو کھٹکتی ہے کوئی بات

جس طرح کوئی سمت نما ہے مرے دل میں

Tuesday, 13 October 2020

تم مرے پاس تو نہیں پھر بھی

 ٹکٹ


تم مِرے پاس تو نہیں پھر بھی

فون کے دوسری طرف ہو گی

جیسے اک آسمان چاروں طرف

تم ہو میرے لیے ہزاروں طرف

یہی ہوتا ہے کال کا مقصد

ان کہے اک سوال کا مقصد

Sunday, 4 October 2020

انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں

 انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں

یہ سوچنے بیٹھیں تو پریشانی سے مر جائیں

وہ جن کو میسر تھی ہر اک چیزے دگر بھی

ممکن ہے سہولت کی فراوانی سے مر جائیں

کشتی پہ تھے، کشتی کو جلاتے ہوئے حضرات

اب آگ سے بچ جائیں بھلے پانی سے مر جائیں

Tuesday, 29 September 2020

ایک دن خواب نگر جانا ہے

 ایک دن خواب نگر جانا ہے

اور یونہی خاک بسر جانا ہے

عمر بھر کی یہ جو ہے بے خوابی

یہ اسی خواب کا ہرجانا ہے

گھر سے کس وقت چلے تھے ہم لوگ

خیر اب کون سا گھر جانا ہے

Tuesday, 30 April 2019

اس نے میٹنگ بلائی

اس نے میٹنگ بلائی
کہا لوگ دن رات کنٹرول میں ہیں
ٹیپ منہ پر لگائی
کہا سب بیانات کنٹرول میں ہیں
اس نے گولی چلائی
کہا سر جی، حالات کنٹرول میں ہیں

عقلیت پسندی سے اقلیت پسندی تک

عقلیت پسندی سے اقلیت پسندی تک

دیگر میرے خلاف بول رہے ہیں
اکثر اپنے حق میں خاموش ہیں
مرده پرستی کی کلاس ختم 
ہیرو ورشپ کا پیریڈ شروع
پرانے بتوں کو توڑ مروڑ کر
جوڑ لیے گئے ہیں نت نئے بت

Thursday, 30 November 2017

ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے

ربط اسیروں کو ابھی اس گلِ تر سے کم ہے 
ایک رخنہ سا ہے دیوار میں در سے کم ہے 
حرف کی لو میں ادھر اور بڑھا دیتا ہوں 
آپ بتلائیں تو یہ خواب جدھر سے کم ہے 
ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت 
پھر بھی اے دوست تِری ایک نظر سے کم ہے 

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے 
مِرے عزیز کو ہر اک بہانہ آتا ہے 
ذرا سا مل کے دکھاؤ کہ ایسے ملتے ہیں 
بہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے 
زمانے ہو گئے دریا تو کہہ گیا تھا مجھے 
بس ایک موج کو کر کے روانہ آتا ہے 

Wednesday, 18 October 2017

ہجر لاحق ہے کہ ہجرت ہے مجھے

ہجر لاحق ہے کہ ہجرت ہے مجھے
نیند میں چلنے کی عادت ہے مجھے
میں کسی وقت بھی مر سکتا ہوں
دوست! اندر سے محبت ہے مجھے
جا، جدائی کے سبب مت گنوا
جیسے درکار وضاحت ہے مجھے

غبار تھا غبار بھی نہیں رہا

غبار تھا، غبار بھی نہیں رہا
خدا کا انتظار بھی نہیں رہا
یہ دل تو اس کا نام کا پڑاؤ ہے
جہاں وہ ایک بار بھی نہیں رہا
فلک سے واسطہ پڑا کچھ اس طرح
زمیں کا اعتبار بھی نہیں رہا

کم کم رہا وہ پاس اور اکثر بہت ہی دور

کم کم رہا وہ پاس، اور اکثر بہت ہی دور
اک چاند سا کہیں تھا افق پر بہت ہی دور
اے آبجو! سنبھل تو ذرا دم نہ ٹوٹ جائے
دریا ہے دور، اور سمندر بہت ہی دور
بس شام کینوس میں اترنے کی دیر ہو
دل ڈوبنے لگے کہیں اندر، بہت ہی دور

Tuesday, 4 April 2017

تو جو نہیں تو پھر مرا کوئی سا حال بھی سہی

تُو جو نہیں تو پھر مِرا کوئی سا حال بھی سہی
موت ہے تو وہی سہی، زیست ہے تو یہی سہی
ایسے لگا کہ چاند ہے، پھر یہ کھلا کہ پھول ہے
پاس تو جا کے دیکھیے، خواب ہے، خواب ہی سہی
بزم سے تھا میں رات الگ، ہے مری چپ کی بات الگ
جس کے جواب میں کہا اس نے کہ پھر کبھی سہی