سُنا ہے مرتے نہیں پیار میں انارکلی
تو کیسا لگتا ہے دیوار میں انارکلی؟
تمہارے جسم پہ مرضی تمہاری چلتی ہے
سو کُھل کے بیٹھو بڑی کار میں انارکلی
سفید شرٹ میں لگتی ہو تم کپاس کا پھول
اور آج سُرمئی شلوار میں انارکلی
سبھی کو عشق ہے سیکس اور تشدد سے
ڈرامے کرتے ہیں بے کار میں انارکلی
تمہیں وزیر سیاحت بنایا جا رہا ہے
تمہارا سِین ہے دربار میں انارکلی
ادریس بابر
No comments:
Post a Comment