تم کو ہی لکھ رہا ہوں
یہ خط میں تم کو ہی لکھ رہا ہوں
مگر مجهے یہ یقین بهی ہے
کہ اس نوشتے کو تاقیامت
تمہاری آنکهیں نہ پڑھ سکیں گی
یہ خط عجیب اور منفرد ہے
جو قاصدوں اور ڈاکخانوں سے
تا ابد اجنبی رہے گا
میں اس کو لکھ کر
طویل جاڑوں کی یخ گزیدہ
اداس راتوں میں خود پڑھوں گا
پهر ایک دن پارہ پاره کر کے
عدم کی بهٹی میں پهینک دوں گا
یہ خط جو تم ہی کو لکھ رہا ہوں
کہ جس میں خود محوری کا پہلو چهپا ہوا ہے
میں سوچتا ہوں
کہ روز و شب کی رفاقتوں نے
ہمارے اندر طویل اُکتاہٹوں کے
خاشاک بهر دئیے ہیں
ہمارےجذبے جماہیاں لے رہے ہیں
اور باہمی تفاہم پہ برفباری کی کیفیت ہے
'کہیں تعلق نہ ٹوٹ جائے'
سو اب یہی فیصلہ ہے میرا
تم اپنے آنگن میں جا بسو تو
میں اپنےصحرا کی وسعتوں میں
خوشی خوشی دن گزارنے کا
کوئی طریقہ نکال لوں گا
یہ مرے حرفِ آخری هیں
میں اس کے بعد کچھ بهی نہیں لکهوں گا
مگر یہ میرا لکها ہوا خط
تمہارے گهر کے پتے پہ تم کو
کبهی نہ موصول ہو سکے گا
طالب جوہری
No comments:
Post a Comment