Wednesday, 12 January 2022

یہ خط میں تم کو ہی لکھ رہا ہوں

 تم کو ہی لکھ رہا ہوں


یہ خط میں تم کو ہی لکھ رہا ہوں

مگر مجهے یہ یقین بهی ہے

کہ اس نوشتے کو تاقیامت

تمہاری آنکهیں نہ پڑھ سکیں گی

یہ خط عجیب اور منفرد ہے

جو قاصدوں اور ڈاکخانوں سے 

تا ابد اجنبی رہے گا

میں اس کو لکھ کر

طویل جاڑوں کی یخ گزیدہ 

اداس راتوں میں خود پڑھوں گا

پهر ایک دن پارہ پاره کر کے

عدم کی بهٹی میں پهینک دوں گا

یہ خط جو تم ہی کو لکھ رہا ہوں

کہ جس میں خود محوری کا پہلو چهپا ہوا ہے

میں سوچتا ہوں

کہ روز و شب کی رفاقتوں نے

ہمارے اندر طویل اُکتاہٹوں کے 

خاشاک بهر دئیے ہیں

ہمارےجذبے جماہیاں لے رہے ہیں

اور باہمی تفاہم پہ برفباری کی کیفیت ہے

'کہیں تعلق نہ ٹوٹ جائے'

سو اب یہی فیصلہ ہے میرا

تم اپنے آنگن میں جا بسو تو

میں اپنےصحرا کی وسعتوں میں

خوشی خوشی دن گزارنے کا

کوئی طریقہ نکال لوں گا

یہ مرے حرفِ آخری هیں

میں اس کے بعد کچھ بهی نہیں لکهوں گا

مگر یہ میرا لکها ہوا خط

تمہارے گهر کے پتے پہ تم کو

کبهی نہ موصول ہو سکے گا


طالب جوہری

No comments:

Post a Comment