Wednesday, 12 January 2022

ان کہی ان سنی رہ جائے گی

 ان کہی


پھر کسی یاد کا بے مہر ہیولا کوئی

میرے یخ بستہ تنفس سے الجھ کر دم بھر

دھیرے دھیرے مِری آنکھوں میں اتر آئے گا

کوئی بے نام سا درد

میرے بے زار رگ و پے میں سمو کر خود کو

توڑ ڈالے گا مِرے ضبط کے تار

اور ماتھے پہ ٹھٹھرتا ہوا موہوم سا لمس

پھر لبِ گرمِ محبت کی دہائی دے گا

میرے ہر خواب کا نشتر ریزہ

چشمِ افسردہ کو خوں رنگ بدھائی دے گا

اور کہیں دور شبِ ہجر کے وحشت زدہ سناٹے میں

اسی سرگوشئ دلبر کی عبث سی خواہش

ہر بُنِ مُو میں سلگ اٹھے گی

مگر

کوئی گویائی نہ شُنوائی کی صورت ہو گی

ہر شبِ عہدِ گزِشتہ کی طرح

دلِ وحشی کی تمنائے زبوں

ان کہی ان سُنی رہ جائے گی


شاہین کاظمی

No comments:

Post a Comment