Wednesday, 12 January 2022

اک قرب جو قربت کو رسائی نہیں دیتا

 اک قرب، جو قربت کو رسائی نہیں دیتا

اک فاصلہ، احساسِ جدائی نہیں دیتا

اک تیرگی دیتی ہے بصارت کے قرینے

اک روشنی وہ، جس میں سُجھائی نہیں دیتا

اک قید ہے آزادئ افکار بھی گویا

اک دام، جو اڑنے سے رہائی نہیں دیتا

اک آہ خطا گِریہ بہ لب صبحِ ازل سے

اک در ہے جو توبہ کو رسائی نہیں دیتا

اک شوق بڑائی کا، اگر حد سے گزر جائے

پھر میں کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا

مت پوچھیۓ چالاکیاں میری کہ مِرا عیب

اب اہلِ نظر کو بھی دکھائی نہیں دیتا


ندیم فاضلی

No comments:

Post a Comment