Wednesday, 12 January 2022

ظالم ترے وعدوں نے دیوانہ بنا رکھا

ظالم ترے وعدوں نے دیوانہ بنا رکھا

شمع رخ انور کا پروانہ بنا رکھا

سبزہ کی طرح مجھ کو اس گلشن عالم میں

اپنوں سے بھی قسمت نے بیگانہ بنا رکھا

تقلید یہ اچھی کی ساقی نے مرے دل کی

ٹوٹے ہوئے شیشہ کا پیمانہ بنا رکھا

دعویٰ تری الفت کا کہنے میں نہیں آتا

غیروں نے مگر اس کا افسانہ بنا رکھا

افسوس نہ کی دل کی کچھ قدر عزیز افسوس

کعبہ تھا اسے تو نے بت خانہ بنا رکھا


عزیز حیدرآبادی

No comments:

Post a Comment