ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤ
جا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤ
جو بھی اس دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہو
کیسے ممکن ہے کتابوں سے بھلائے جاؤ
شاید یہ طرز کسی روح میں گھر کر جائے
عین ممکن ہے کسی دل میں بسائے جاؤ
ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤ
جا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤ
جو بھی اس دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہو
کیسے ممکن ہے کتابوں سے بھلائے جاؤ
شاید یہ طرز کسی روح میں گھر کر جائے
عین ممکن ہے کسی دل میں بسائے جاؤ
عورت نامہ
کس کی آرزو تھی میں
کس کی ہو گئی ہوں میں
کہ خود کو بھی نہیں ملتی
کہیں تو کھو گئی ہوں میں
یہی تھی چاہتی کہنا
کچھ اور ہی کہہ گئی ہوں میں
چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید
آنا بھی ہے تو نہیں ہم کو بتانا شاید
صبر آیا ہے ہمیں اشک فشانی سے ہی
مل ہی جائے کوئی اس کو بھی بہانہ شاید
اس نے اچھا ہی کیا بن مجھے بتلائے گیا
جان لے لیتا مِری اس کا یوں جانا شاید
کیا سناؤں دلِ مضطر کا فسانہ تم کو
میں نے چاہا تھا کبھی ایک زمانہ تم کو
یہ جو تم عید پہ بھی آتے نہیں لوٹ کے گھر
کوئی چھٹی کا نہیں ہوتا بہانہ تم کو
بسترِ مرگ پہ ماں تھی تو نہ تھے سامنے تم
بہت ہی مہنگا پڑا ہے چلے جانا تم کو
رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا
چاہتے جسے ہم ہیں وہ نہیں ہے چاہت کا
جس نے ہجر کاٹا ہے بس وہ جان سکتا ہے
زخم سِل نہیں سکتا درد ہے وہ شدت کا
آنکھ مر تو جاتی ہے جینے کی تمنا میں
اور وہ نہیں مرتا جو ہے خواب حسرت کا
درد دل کون آزماتا ہے
کون بے چینیاں بڑھاتا ہے
رات بھر جاگتے رہے ہو تم
جانے کیا غم تمہیں ستاتا ہے
ہنستے ہنستے جو رونے لگتے ہو
کچھ کہو کون یاد آتا ہے
کبھی عشق سے کبھی پیار سے
کبھی موسموں کی بہار سے
شبِ ہجر روشنی ہو گئی
مِرے آنسوؤں کی قطار سے
نہ بہل سکی نہ نکل سکی
تِرے دل کے ایک بھی تار سے