Showing posts with label ماہم شاہ. Show all posts
Showing posts with label ماہم شاہ. Show all posts

Thursday, 5 August 2021

ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤ

 ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤ

جا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤ

جو بھی اس دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہو

کیسے ممکن ہے کتابوں سے بھلائے جاؤ

شاید یہ طرز کسی روح میں گھر کر جائے

عین ممکن ہے کسی دل میں بسائے جاؤ

Saturday, 12 June 2021

کس کی آرزو تھی میں کس کی ہو گئی ہوں

 عورت نامہ


کس کی آرزو تھی میں 

کس کی ہو گئی ہوں میں 

کہ خود کو بھی نہیں ملتی 

کہیں تو کھو گئی ہوں میں 

یہی تھی چاہتی کہنا 

کچھ اور ہی کہہ گئی ہوں میں 

Sunday, 25 April 2021

چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید

 چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید

آنا بھی ہے تو نہیں ہم کو بتانا شاید

صبر آیا ہے ہمیں اشک فشانی سے ہی

مل ہی جائے کوئی اس کو بھی بہانہ شاید

اس نے اچھا ہی کیا بن مجھے بتلائے گیا

جان لے لیتا مِری اس کا یوں جانا شاید

Thursday, 8 April 2021

کیا سناؤں دل مضطر کا فسانہ تم کو

 کیا سناؤں دلِ مضطر کا فسانہ تم کو

میں نے چاہا تھا کبھی ایک زمانہ تم کو

یہ جو تم عید پہ بھی آتے نہیں لوٹ کے گھر

کوئی چھٹی کا نہیں ہوتا بہانہ تم کو

بسترِ مرگ پہ ماں تھی تو نہ تھے سامنے تم

بہت ہی مہنگا پڑا ہے چلے جانا تم کو

رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا

 رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا

چاہتے جسے ہم ہیں وہ نہیں ہے چاہت کا

جس نے ہجر کاٹا ہے بس وہ جان سکتا ہے

زخم سِل نہیں سکتا درد ہے وہ شدت کا

آنکھ مر تو جاتی ہے جینے کی تمنا میں 

اور وہ نہیں مرتا جو ہے خواب حسرت کا 

Wednesday, 7 April 2021

درد دل کون آزماتا ہے

 درد دل کون آزماتا ہے

کون بے چینیاں بڑھاتا ہے

رات بھر جاگتے رہے ہو تم

جانے کیا غم تمہیں ستاتا ہے

ہنستے ہنستے جو رونے لگتے ہو

کچھ کہو کون یاد آتا ہے

Tuesday, 6 April 2021

کبھی عشق سے کبھی پیار سے

 کبھی عشق سے کبھی پیار سے

کبھی موسموں کی بہار سے

شبِ ہجر روشنی ہو گئی

مِرے آنسوؤں کی قطار سے

نہ بہل سکی نہ نکل سکی

تِرے دل کے ایک بھی تار سے