Wednesday, 7 April 2021

درد دل کون آزماتا ہے

 درد دل کون آزماتا ہے

کون بے چینیاں بڑھاتا ہے

رات بھر جاگتے رہے ہو تم

جانے کیا غم تمہیں ستاتا ہے

ہنستے ہنستے جو رونے لگتے ہو

کچھ کہو کون یاد آتا ہے

جسے کرنا ہو کوئی وعدہ وفا 

تو وہ پھر لوٹ کر بھی آتا ہے 

کوچۂ حسن تو گیا سالم 

پر یہ دل ٹوٹ کر ہی آتا ہے 

مان لیتی ہوں اس کا کہنا بھی 

جانے پھر روٹھ کے کیوں جاتا ہے 


ماہم شاہ

No comments:

Post a Comment