Wednesday, 7 April 2021

گھر کو کیسا بھی تم سجا رکھنا

 گھر کو کیسا بھی تم سجا رکھنا

کہیں غم کا بھی داخلہ رکھنا

گر کسی کو سمجھنا اپنا تم

دھوکہ کھانے کا حوصلہ رکھنا

اتنی قربت کسی سے مت رکھو

کچھ ضروری ہے فاصلہ رکھنا

ان کی ہر بات میٹھی ہوتی ہے

جھوٹی باتوں کا مت گلہ رکھنا

زندگی ایک بار ملتی ہے

اس کو جینے کا حوصلہ رکھنا

ناامیدی کو کفر کہتے ہیں

رب سے امید آصفہ رکھنا


آصفہ زمانی 

No comments:

Post a Comment