Showing posts with label عدیل عبداللہ. Show all posts
Showing posts with label عدیل عبداللہ. Show all posts

Sunday, 8 October 2023

ہجر و وصال بھی یارا انٹرنیٹ کا اب مرہون ہوا

 ہجر و وصال بھی یارا انٹرنیٹ کا اب مرہون ہوا

تب تب سگنل ڈاؤن نکلے جب جب ٹیلی فون ہوا

انگاروں سے ملتی جلتی اس لڑکی کی پوریں تھیں

ایسی حِدت تھی اس لمس کی جسم سُلگ کر جون ہوا

اتنے عرصے کی قُربت کا دونوں کو احساس ہوا

آج پرندہ لوٹ کے آیا،۔ پیڑ بہت ممنون ہوا

Saturday, 10 July 2021

دل کا خیمہ اکھاڑ سکتی ہو تم محبت اجاڑ سکتی ہو

 دل کا خیمہ اکھاڑ سکتی ہو

تم محبت اجاڑ سکتی ہو

ایک کمزور سا ہدف ٹھہرے

زندگی تم بچھاڑ سکتی ہو

بے بسی اب کھلی اجازت ہے

درد رگ رگ میں گاڑ سکتی ہو

Thursday, 1 July 2021

ہجر و وصال بھی یارا انٹرنیٹ کا اب مرہون ہوا

ہجر و وصال بھی یارا انٹرنیٹ کا اب مرہون ہوا

تب تب سگنل ڈاؤن نکلے، جب جب ٹیلی فون ہوا

انگاروں سے ملتی جلتی اس لڑکی کی پوریں تھیں

ایسی حِدت تھی اس لمس کی جسم سُلگ کر جون ہوا

اتنے عرصے کی قُربت کا دونوں کو احساس ہوا

آج پرندہ لوٹ کے آیا، پیڑ بہت ممنون ہوا

Tuesday, 29 June 2021

اتنا جھگڑالو فسادی نہیں ہو سکتا ہے

 اتنا جھگڑالو فسادی نہیں ہو سکتا ہے

ایسا عادی، مِرا عادی نہیں ہوسکتا ہے

سینکڑوں بار مِری شکل کو تکنے والے

عشق کیا غیر ارادی نہیں ہو سکتا ہے؟

بھینٹ رسموں کی چڑھے گا یہ تِرا میرا ملاپ

چاہے جس نے بھی دعا دی، نہیں ہو سکتا ہے

Monday, 15 March 2021

کمرے میں جو رکھی ہے تو آرام کرے گی

 کمرے میں جو رکھی ہے تو آرام کرے گی 

یہ بیل درختوں کو بھی بدنام کرے گی

سوئی ہے تو سوئی رہے مت اس کو جگاؤ

جاگی تو سبھی شہر میں کُہرام کرے گی

میں خواب تو بیچوں گا مگر مہنگے بہت ہیں

تُو 👁آنکھیں👁 بتا اپنی یہ نیلام کرے گی؟

Sunday, 14 March 2021

محبت بے تحاشا تھی اذیت بھی مثالی ہے

 محبت بے تحاشا تھی، اذیت بھی مثالی ہے

ہمارے ہاتھ میں اپنے بدن کی پائمالی ہے

وہ رزقِ دِید کی خیرات اب بٹتی ہے غیروں میں

سنا ہے شہرِِ قُربت میں بلا کی قحط سالی ہے

اسے کب علم ہو گا؟ عشق کیا تاوان لیتا ہے

وہ اک کم سِن سی لڑکی ہے طبیعت لا اُبالی ہے

Friday, 18 December 2020

دل مضطرب کوئی اسم ہو

کوئی اسم ہو


 دلِ مضطرب

کوئی اسم ہو

جسے پڑھ کے کم ہو ملالِ جاں

جسے پھونک کر

یہ اداسیاں ذرا کم لگیں