Monday, 15 March 2021

کمرے میں جو رکھی ہے تو آرام کرے گی

 کمرے میں جو رکھی ہے تو آرام کرے گی 

یہ بیل درختوں کو بھی بدنام کرے گی

سوئی ہے تو سوئی رہے مت اس کو جگاؤ

جاگی تو سبھی شہر میں کُہرام کرے گی

میں خواب تو بیچوں گا مگر مہنگے بہت ہیں

تُو 👁آنکھیں👁 بتا اپنی یہ نیلام کرے گی؟

باغی ہے قبیلے کی، اسے روک لوں جتنا 

چھپ چھپ کے نہیں عشق سرِ عام کرے گی

میں پھر سے تھکن اوڑھ کے لوٹ آؤں گا گھر کو

مایوس مجھے حسرتِ ناکام کرے گی

ممکن ہے بہت ساری بلائیں تجھے گھیریں

تُو عشق کے جنگل میں اگر شام کرے گی

نوکر ہیں جو اکثر اسے پہناتے ہیں جوتی

شہزادی ہے وہ گھر کے بھلا کام کرے گی


عدیل عبداللہ

No comments:

Post a Comment