Monday, 15 March 2021

لوگ مسافر ہو جاتے ہیں تصویریں رہ جاتی ہیں

 لوگ مسافر ہو جاتے ہیں، تصویریں رہ جاتی ہیں

گونگی، بہری، اندھی ہوکر دیواریں رہ جاتی ہیں

رخصت کے آداب عجب ہیں، خوش خوش بھیج کے ساجن کو

گھر کے دروازے پر چسپاں دو آنکھیں رہ جاتی ہیں

جب جب ہجر کے لمحے گننے اس کے ساتھ میں بیٹھا ہوں

دن گنتی میں آ جاتے ہیں، لیکن راتیں رہ جاتی ہیں

آنکھوں آنکھوں میں ہی کہہ دو جو اس کی بابت کہنا ہے

سنتے ہیں محفوظ فضا میں آوازیں رہ جاتی ہیں

اس نٹ کھَٹ نے ہاتھ بڑھا کر پتوں کو گر چھیڑا ہو

آپس میں تا دیر الجھتی پیڑ کی شاخیں رہ جاتی ہیں

دل دھرتی پر ہجر کا بادل دیر تلک چھا جائے تو

آنکھوں میں پھر بن بادل کی برساتیں رہ جاتی ہیں

اس سے پوچھ  کہ بازاروں میں مندی ہے یا تیزی ہے

جس کے خواب تو بک جاتے ہیں تعبیریں رہ جاتی ہیں

وہ چپ چاپ چلا جاتا ہے اٹھ کر میرے پہلو سے

میرے کمرے میں پھر میں اور اس کی سوچیں رہ جاتی ہیں


دانش عزیز

No comments:

Post a Comment