Showing posts with label جاوید مہدی. Show all posts
Showing posts with label جاوید مہدی. Show all posts

Tuesday, 4 October 2022

شہر بھی تمہارا تھا لوگ بھی تمہارے تھے

 شہر بھی تمہارا تھا لوگ بھی تمہارے تھے

اس وجہ سے عشق میں اب کی بار ہارے تھے

ایسا کیا ہوا کہ تُو نے ہم سے نظریں پھیر لیں

ہم تو وہ تھے جو تجھے جان سے بھی پیارے تھے

قسمتوں نے لہروں میں ساتھ نہ دیا، ورنہ

ڈوبنے والے نے کتنے ہاتھ پاؤں مارے تھے

Wednesday, 20 April 2022

تمام رات کسی کرب میں گزاری ہے

 تمام رات کسی کرب میں گزاری ہے 

ہمیں نہ پوچھ جو حالت میاں ہماری ہے 

وہ تھاپ ڈھول کی اب تک سنائی دیتی ہے 

ابھی بھی لگتا ہے جیسے دھمال جاری ہے 

کہیں پہ پیچھے محبت بھی پل رہی تھی مگر 

ہمیں بتایا گیا تھا یہ صرف یاری ہے

Sunday, 27 February 2022

پوچھو نہیں کہ کیسے کٹی ہے تمہارے بعد

 پوچھو نہیں کہ کیسے کٹی ہے تمہارے بعد

ہم کو حیات مہنگی پڑی ہے تمہارے بعد 

تم ساتھ تھے تو میری نظر ٹھیک ٹھاک تھی 

عینک تو دوست مجھ کو لگی ہے تمہارے بعد 

اِک میں ہوں جس کا حال مسلسل خراب ہے 

اک آئینے پہ دھول جمی ہے تمہارے بعد

Monday, 30 August 2021

میں نے پہلے تو یاروں کو آواز دی

 میں نے پہلے تو یاروں کو آواز دی

اور پھر دنیا داروں کو آواز دی

اشک دریا کی صورت نکل آئے تو

چشمِ تر نے کناروں کو آواز دی

میں بھی چلنے لگا آسماں کی طرف

چاند نے جب ستاروں کو آواز دی

Sunday, 15 August 2021

گلاب سمجھا ہوا تھا جن کو وہ خار نکلے

 گلاب سمجھا ہوا تھا جن کو وہ خار نکلے

ہمارے دشمن ہمارے اپنے ہی یار نکلے

کبھی کبھی درد دل میں نکلے تو یوں لگے ہے

کہ جیسے میرے بدن سے کچھ آر پار نکلے

وہ لوگ جو خود کو ضبط کا رب بتا رہے تھے

پڑی جو مشکل تو ایک جھٹکے کی مار نکلے

Friday, 16 April 2021

تمہیں خبر ہی نہیں کہ یہ جو تمہارا دکھ ہے

تمہیں خبر ہی نہیں کہ یہ جو تمہارا دُکھ ہے

ہمارے رہتے ہوئے تو یہ بهی ہمارا دکھ ہے

ہمیں اکیلے ہی سفر کرنے کی عادتیں ہیں

ہم ایسے لوگوں کے واسطے ہر سہارا دکھ ہے

میں وہ نہیں ہوں جو رو کے شکوہ کروں خدا سے

مجھے خوشی ہے خدا نے مجھ پر اتارا دکھ ہے

Wednesday, 14 April 2021

ہاتھوں پہ رکھ کر خاک سا اڑا دوں تجھ کو

 ہاتھوں پہ رکھ کر خاک سا اڑا دوں تجھ کو

جی تو کرتا ہے میں بھی بھلا دوں تجھ کو

تو اتنا خوش نہ ہو میرا دل توڑ کر

تیرے ساتھ بھی یہی ہو گا میں بتا دوں تجھ کو

اک حسرت ہے کہ تو مجھے پھر سے ملے

لیکن اب کی بار میں دغا دوں تجھ کو

Thursday, 17 December 2020

لوٹ کر واپس اگر آئے تو آئیں گے یہیں

 لوٹ کر واپس اگر آئے تو آئیں گے یہیں

بزم جیسی بھی سجی لیکن سجائیں گے یہیں

یہ نہیں معلوم اب زندہ ملیں یا پھر مرے

یہ مگر طے ہے کہ ہم کو لوگ پائیں گے یہیں

ہاتھ پاؤں مار کر جلدی کنارے جا لگیں

بڑھ گیا پانی اگر تو ڈوب جائیں گے یہیں

یہ مجھ کو کیسا بنا دیا اے بنانے والے

 یہ مجھ کو کیسا بنا دیا اے بنانے والے

کہ میل کھاتے نہیں ہیں مجھ سے زمانے والے

میں اپنے گاؤں کے سارے لوگوں کو جانتا ہوں

یہ لوگ ہر گز نہیں مرے کام آنے والے

ہماری ویسے بھی آنکھ کم ہی لگی ہے اور پھر

جو خواب آئے تو وہ بھی آئے ڈرانے والے

Wednesday, 16 December 2020

بچھڑنے والے تمہارے جانے کے بعد ہم پر

بچھڑنے والے


تمہارے جانے کے بعد ہم پر

دکھوں کے اتنے پہاڑ ٹوٹے کہ کیا بتائیں

قسم خدا کی ہم اتنے تنہا ہوئے کہ ہم کو

خود اپنا سایہ تلک میسر نہیں ہوا ہے

بچھڑنے والے

Friday, 11 December 2020

تمہاری آنکھوں کو لال ہونے میں دن لگیں گے

 تغیراتی کمال ہونے میں دن لگیں گے

ہمیں دوبارہ بحال ہونے میں دن لگیں گے

ہم اتنی جلدی کبھی کسی پر کهلے نہیں ہیں

تمہیں ہمارا ملال ہونے میں دن لگیں گے

ابهی ابهی تو جدا ہوئے ہو ابهی کہاں یہ

ہمارے بارے سوال ہونے میں دن لگیں گے

Monday, 16 November 2020

خدا کی قسمیں اٹھانے والو کہاں مرے ہو

 خدا کی قسمیں اٹھانے والو، کہاں مرے ہو

کہ وعدہ کر کے نبھانے والو، کہاں مرے ہو

میں مر رہا ہوں کہ پانی سر سے گزر چکا ہے

اب آ بهی جاؤ بچانے والو، کہاں مرے ہو

مرے بدن کے یہ گهاؤ تم کو بلا رہے ہیں

طبیبو! مرہم لگانے والو، کہاں مرے ہو