شہر بھی تمہارا تھا لوگ بھی تمہارے تھے
اس وجہ سے عشق میں اب کی بار ہارے تھے
ایسا کیا ہوا کہ تُو نے ہم سے نظریں پھیر لیں
ہم تو وہ تھے جو تجھے جان سے بھی پیارے تھے
قسمتوں نے لہروں میں ساتھ نہ دیا، ورنہ
ڈوبنے والے نے کتنے ہاتھ پاؤں مارے تھے
شہر بھی تمہارا تھا لوگ بھی تمہارے تھے
اس وجہ سے عشق میں اب کی بار ہارے تھے
ایسا کیا ہوا کہ تُو نے ہم سے نظریں پھیر لیں
ہم تو وہ تھے جو تجھے جان سے بھی پیارے تھے
قسمتوں نے لہروں میں ساتھ نہ دیا، ورنہ
ڈوبنے والے نے کتنے ہاتھ پاؤں مارے تھے
تمام رات کسی کرب میں گزاری ہے
ہمیں نہ پوچھ جو حالت میاں ہماری ہے
وہ تھاپ ڈھول کی اب تک سنائی دیتی ہے
ابھی بھی لگتا ہے جیسے دھمال جاری ہے
کہیں پہ پیچھے محبت بھی پل رہی تھی مگر
ہمیں بتایا گیا تھا یہ صرف یاری ہے
پوچھو نہیں کہ کیسے کٹی ہے تمہارے بعد
ہم کو حیات مہنگی پڑی ہے تمہارے بعد
تم ساتھ تھے تو میری نظر ٹھیک ٹھاک تھی
عینک تو دوست مجھ کو لگی ہے تمہارے بعد
اِک میں ہوں جس کا حال مسلسل خراب ہے
اک آئینے پہ دھول جمی ہے تمہارے بعد
میں نے پہلے تو یاروں کو آواز دی
اور پھر دنیا داروں کو آواز دی
اشک دریا کی صورت نکل آئے تو
چشمِ تر نے کناروں کو آواز دی
میں بھی چلنے لگا آسماں کی طرف
چاند نے جب ستاروں کو آواز دی
گلاب سمجھا ہوا تھا جن کو وہ خار نکلے
ہمارے دشمن ہمارے اپنے ہی یار نکلے
کبھی کبھی درد دل میں نکلے تو یوں لگے ہے
کہ جیسے میرے بدن سے کچھ آر پار نکلے
وہ لوگ جو خود کو ضبط کا رب بتا رہے تھے
پڑی جو مشکل تو ایک جھٹکے کی مار نکلے
تمہیں خبر ہی نہیں کہ یہ جو تمہارا دُکھ ہے
ہمارے رہتے ہوئے تو یہ بهی ہمارا دکھ ہے
ہمیں اکیلے ہی سفر کرنے کی عادتیں ہیں
ہم ایسے لوگوں کے واسطے ہر سہارا دکھ ہے
میں وہ نہیں ہوں جو رو کے شکوہ کروں خدا سے
مجھے خوشی ہے خدا نے مجھ پر اتارا دکھ ہے
ہاتھوں پہ رکھ کر خاک سا اڑا دوں تجھ کو
جی تو کرتا ہے میں بھی بھلا دوں تجھ کو
تو اتنا خوش نہ ہو میرا دل توڑ کر
تیرے ساتھ بھی یہی ہو گا میں بتا دوں تجھ کو
اک حسرت ہے کہ تو مجھے پھر سے ملے
لیکن اب کی بار میں دغا دوں تجھ کو
لوٹ کر واپس اگر آئے تو آئیں گے یہیں
بزم جیسی بھی سجی لیکن سجائیں گے یہیں
یہ نہیں معلوم اب زندہ ملیں یا پھر مرے
یہ مگر طے ہے کہ ہم کو لوگ پائیں گے یہیں
ہاتھ پاؤں مار کر جلدی کنارے جا لگیں
بڑھ گیا پانی اگر تو ڈوب جائیں گے یہیں
یہ مجھ کو کیسا بنا دیا اے بنانے والے
کہ میل کھاتے نہیں ہیں مجھ سے زمانے والے
میں اپنے گاؤں کے سارے لوگوں کو جانتا ہوں
یہ لوگ ہر گز نہیں مرے کام آنے والے
ہماری ویسے بھی آنکھ کم ہی لگی ہے اور پھر
جو خواب آئے تو وہ بھی آئے ڈرانے والے
بچھڑنے والے
تمہارے جانے کے بعد ہم پر
دکھوں کے اتنے پہاڑ ٹوٹے کہ کیا بتائیں
قسم خدا کی ہم اتنے تنہا ہوئے کہ ہم کو
خود اپنا سایہ تلک میسر نہیں ہوا ہے
بچھڑنے والے
تغیراتی کمال ہونے میں دن لگیں گے
ہمیں دوبارہ بحال ہونے میں دن لگیں گے
ہم اتنی جلدی کبھی کسی پر کهلے نہیں ہیں
تمہیں ہمارا ملال ہونے میں دن لگیں گے
ابهی ابهی تو جدا ہوئے ہو ابهی کہاں یہ
ہمارے بارے سوال ہونے میں دن لگیں گے
خدا کی قسمیں اٹھانے والو، کہاں مرے ہو
کہ وعدہ کر کے نبھانے والو، کہاں مرے ہو
میں مر رہا ہوں کہ پانی سر سے گزر چکا ہے
اب آ بهی جاؤ بچانے والو، کہاں مرے ہو
مرے بدن کے یہ گهاؤ تم کو بلا رہے ہیں
طبیبو! مرہم لگانے والو، کہاں مرے ہو