خدا کی قسمیں اٹھانے والو، کہاں مرے ہو
کہ وعدہ کر کے نبھانے والو، کہاں مرے ہو
میں مر رہا ہوں کہ پانی سر سے گزر چکا ہے
اب آ بهی جاؤ بچانے والو، کہاں مرے ہو
مرے بدن کے یہ گهاؤ تم کو بلا رہے ہیں
طبیبو! مرہم لگانے والو، کہاں مرے ہو
میں غم کا مارا شراب خانے میں آ گیا ہوں
پلاؤ مجھ کو، پلانے والو، کہاں مرے ہو
یہ دیکھو صحرا بهی بستیوں میں بدل گئے ہیں
دلوں میں مسکن بنانے والو، کہاں مرے ہو
اندهیرے کب سے ہماری آنکھوں میں چبھ رہے ہیں
چراغ شب میں جلانے والو، کہاں مرے ہو
تمہارے چہرے پہ مسکراہٹ کو دیکھنا ہے
مذاق میرا اڑانے والو، کہاں مرے ہو
مجھے شہر کو اداسیوں سے نکالنا ہے
میں پیسے دوں گا ہنسانے والو، کہاں مرے ہو
جاوید مہدی
No comments:
Post a Comment