Showing posts with label عارف انصاری. Show all posts
Showing posts with label عارف انصاری. Show all posts

Wednesday, 23 February 2022

رہتی ہے صبا جیسے خوشبو کے تعاقب میں

 رہتی ہے صبا جیسے خوشبو کے تعاقب میں

کچھ یوں ہی زمانہ ہے اردو کے تعاقب میں

لوٹے نہیں اب تک وہ برسوں ہوئے نکلے تھے

پازیب کی چاہت میں گھنگھرو کے تعاقب میں

اک جادو کی ڈبیا ہے جو ان کا کھلونا ہے

بچے نہیں رہتے اب جگنو کے تعاقب میں

Sunday, 30 January 2022

داستاں بھی مختلف لہجہ بھی یاروں سے جدا

 داستاں بھی مختلف لہجہ بھی یاروں سے جدا

پانچواں درویش تو ہے پہلے چاروں سے جدا

زہر نا پختہ مزاجوں میں بھرا کرتے ہیں یہ

آپ رہیے گا ذرا ان ہوشیاروں سے جدا

شور برپا ہو گیا ہر گوشۂ گلزار میں

جب ابھر آیا نیا منظر بہاروں سے جدا

Tuesday, 28 December 2021

زہراب تشنگی کا مزہ ہم سے پوچھیے

 زہراب تشنگی کا مزہ ہم سے پوچھیۓ

گزری ہوئی صدی کا مزہ ہم سے پوچھیۓ

اک پل خیالِ یار میں ہم منہمک رہے

اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھیۓ

شہرت کی بے خودی کا مزہ آپ جانیۓ

عزت کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیۓ

Monday, 27 December 2021

کس قدر فرقے بنے کتنے قبیلے ہو گئے

 باغباں کی بے رخی سے نیلے پیلے ہو گئے

خار کی مانند اب گل بھی نکیلے ہو گئے

بہتے دریا سے سبھی سیراب ہیں لیکن مجھے

صرف اک قطرہ ملا بس ہونٹ گیلے ہو گئے

مے کشوں نے بس قدم رکھا تھا صحن باغ میں

پھول، پتے، بیل، بوٹے سب نشیلے ہو گئے

Wednesday, 14 July 2021

دل کیا کسی کی بات سے اندر سے کٹ گیا

 دل کیا کسی کی بات سے اندر سے کٹ گیا

تتلی کا رابطہ کیوں گُلِ تر سے کٹ گیا

دو چار گام کا ہی سفر رہ گیا تھا بس

اس وقت میرا قافلہ رہبر سے کٹ گیا

موسم کے سرد و گرم کا جل پر اثر نہ تھا

وہ سنگدل بھی شعرِ سخنور سے کٹ گیا