رہتی ہے صبا جیسے خوشبو کے تعاقب میں
کچھ یوں ہی زمانہ ہے اردو کے تعاقب میں
لوٹے نہیں اب تک وہ برسوں ہوئے نکلے تھے
پازیب کی چاہت میں گھنگھرو کے تعاقب میں
اک جادو کی ڈبیا ہے جو ان کا کھلونا ہے
بچے نہیں رہتے اب جگنو کے تعاقب میں
رہتی ہے صبا جیسے خوشبو کے تعاقب میں
کچھ یوں ہی زمانہ ہے اردو کے تعاقب میں
لوٹے نہیں اب تک وہ برسوں ہوئے نکلے تھے
پازیب کی چاہت میں گھنگھرو کے تعاقب میں
اک جادو کی ڈبیا ہے جو ان کا کھلونا ہے
بچے نہیں رہتے اب جگنو کے تعاقب میں
داستاں بھی مختلف لہجہ بھی یاروں سے جدا
پانچواں درویش تو ہے پہلے چاروں سے جدا
زہر نا پختہ مزاجوں میں بھرا کرتے ہیں یہ
آپ رہیے گا ذرا ان ہوشیاروں سے جدا
شور برپا ہو گیا ہر گوشۂ گلزار میں
جب ابھر آیا نیا منظر بہاروں سے جدا
زہراب تشنگی کا مزہ ہم سے پوچھیۓ
گزری ہوئی صدی کا مزہ ہم سے پوچھیۓ
اک پل خیالِ یار میں ہم منہمک رہے
اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھیۓ
شہرت کی بے خودی کا مزہ آپ جانیۓ
عزت کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیۓ
باغباں کی بے رخی سے نیلے پیلے ہو گئے
خار کی مانند اب گل بھی نکیلے ہو گئے
بہتے دریا سے سبھی سیراب ہیں لیکن مجھے
صرف اک قطرہ ملا بس ہونٹ گیلے ہو گئے
مے کشوں نے بس قدم رکھا تھا صحن باغ میں
پھول، پتے، بیل، بوٹے سب نشیلے ہو گئے
دل کیا کسی کی بات سے اندر سے کٹ گیا
تتلی کا رابطہ کیوں گُلِ تر سے کٹ گیا
دو چار گام کا ہی سفر رہ گیا تھا بس
اس وقت میرا قافلہ رہبر سے کٹ گیا
موسم کے سرد و گرم کا جل پر اثر نہ تھا
وہ سنگدل بھی شعرِ سخنور سے کٹ گیا