Wednesday, 14 July 2021

دل کیا کسی کی بات سے اندر سے کٹ گیا

 دل کیا کسی کی بات سے اندر سے کٹ گیا

تتلی کا رابطہ کیوں گُلِ تر سے کٹ گیا

دو چار گام کا ہی سفر رہ گیا تھا بس

اس وقت میرا قافلہ رہبر سے کٹ گیا

موسم کے سرد و گرم کا جل پر اثر نہ تھا

وہ سنگدل بھی شعرِ سخنور سے کٹ گیا

صف میں مخالفوں کی میں سمجھا تھا غیر ہیں

دیکھا جو اپنے لوگوں کو اندر سے کٹ گیا

خیرات خوب کرتا ہے جب لوگ ساتھ ہوں

تنہا ہے وہ ابھی تو گداگر سے کٹ گیا

جب تک عروج تھا تو زمانے میں دُھوم تھی

جوں ہی زوال آیا، وہ منظر سے کٹ گیا


عارف انصاری

No comments:

Post a Comment