Showing posts with label شہزاد جاوید. Show all posts
Showing posts with label شہزاد جاوید. Show all posts

Saturday, 23 April 2022

تمہاری یاد کو یکسر بھلانے والا تھا

تمہاری یاد کو یکسر بھلانے والا تھا

میں اپنے آپ کو سُولی چڑھانے والا تھا

میں سانس سانس میں محسوس کر رہا تھا جسے

وہ شخص مجھ سے کہاں دور جانے والا تھا

میں مانتا ہوں کہ بخشی ہیں دھڑکنیں اس نے

مگر دلوں پہ ستم کون ڈھانے والا تھا؟

Thursday, 27 January 2022

شکم کی آگ بجھانے میں تھک کے بیٹھ گئے

 شکم کی آگ بجھانے میں تھک کے بیٹھ گئے

ہم اپنا بوجھ اٹھانے میں تھک کے بیٹھ گئے

اندھیرے جن کے نصیبوں میں تھے اندھیرے رہے

چراغ لوگ جلانے میں تھک کے بیٹھ گئے

غریبِ شہر سہولت سے سو نہیں پائے

نصیب سوئے جگانے میں تھک کے بیٹھ گئے

Wednesday, 20 October 2021

آنکھ کو روشنی ضروری ہے

 آنکھ کو روشنی ضروری ہے

مجھ کو اک تُو بڑی ضروری ہے

موت بہتر تھی تجھ سے پہلے اب

مجھ کو یہ زندگی ضروری ہے

تیری باتوں میں لطف ہے، لیکن

چائے کی چُسکی بھی ضروری ہے

Saturday, 19 June 2021

پنچھی نے چھت پہ شور مچایا ہے صدقہ دے

 پنچھی نے چھت پہ شور مچایا ہے صدقہ دے

مدت کے بعد شخص وہ آیا ہے صدقہ دے

دیکھا مجھے فقیر نے بے ساختہ کہا

تجھ پر کسی کی یاد کا سایہ ہے صدقہ دے

ٹھوکر لگا رہے ہیں جو اپنے تو شکر کر

جینے کا ڈھنگ تجھ کو سکھایا ہے صدقہ دے

Monday, 7 June 2021

سب اپنے مفادات پہ خاموش کھڑے ہیں

 سب اپنے مفادات پہ خاموش کھڑے ہیں

ہم تیرے سوالات پہ خاموش کھڑے ہیں

لگتا ہے تمہیں یوں کہ نہیں وار کی طاقت

ہم دوست کسی بات پہ خاموش کھڑے ہیں

پہلے جو سناتے تھے بہت پیار کے قصے

اس وقت شکایات پہ خاموش کھڑے ہیں

Wednesday, 2 June 2021

جاگتی آنکھ بھی خوابوں سے لپٹ جاتی ہے

 جاگتی آنکھ بھی خوابوں سے لپٹ جاتی ہے

یاد تیری مِرے لمحوں سے لپٹ جاتی ہے

ہے مِرے گاؤں کی مٹی کو محبت مجھ سے

چلنے لگتا ہوں تو پیروں سے لپٹ جاتی ہے

سچ ہے تنہائی نہیں دوست بنانی پڑتی

خود بخود درد کے ماروں سے لپٹ جاتی ہے

Tuesday, 1 June 2021

مان لو تم بھی یار اندھا ہے

 مان لو تم بھی یار اندھا ہے

میں تو کہتا ہوں پیار اندھا ہے

پھول بھی دیکھ کر ہیں حیرت میں

تم پہ آیا نکھار اندھا ہے

حسن دیکھا نہ تم نے پہلے کبھی

سامنے دیکھ یار اندھا ہے؟

Monday, 31 May 2021

اب ایسے ویسوں کا ہوتا نہیں ادب مجھ سے

 اب ایسے ویسوں کا ہوتا نہیں ادب مجھ سے

سو اس لیے ہی ہوئے دور لوگ سب مجھ سے

جو خواب دن کے اجالوں میں، میں نے دیکھے تھے

حساب ان کے بھی اب مانگتی ہے شب مجھ سے

وہ میرے پیار کی مقدار جاننے کے لیے

خفا ہوا ہے کئی بار بے سبب مجھ سے

Saturday, 29 May 2021

گفتگو کرتے ہوئے رات بتا لی جائے

 گفتگو کرتے ہوئے رات بِتا لی جائے

بات سے ایک نئی بات نکالی جائے

گھر میں دیوار اُٹھانے سے کہیں بہتر ہے

دل سے نفرت کی ہی دیوار گِرا لی جائے

خواب تو خیر حقیقت نہیں ہونے والے

کیوں نہ کچھ دیر کو پھر آنکھ لگا لی جائے

Friday, 28 May 2021

وہ چاہتا تو ہے مجھے مسمار دیکھنا

 وہ چاہتا تو ہے مجھے مسمار دیکھنا

ممکن نہیں مگر پسِ دیوار دیکھنا

اب اس کے انتظار میں رک ہی گئی گھڑی

وہ آئے گا تو وقت کی رفتار دیکھنا

کانٹوں کا احتساب تو کرنے ہو چل پڑے

کچھ پھولوں کا بھی دوستو کردار دیکھنا

Friday, 23 April 2021

چپ چاپ خموشی کی صدا چاٹ رہی ہے

 چپ چاپ خموشی کی صدا چاٹ رہی ہے

مجھ کو تِری دوری کی بلا چاٹ رہی ہے

برسات مجھے راس تھی جب ساتھ تِرا تھا

اے دوست مجھے اب یہ گھٹا چاٹ رہی ہے

شکوہ نہیں کرتا وہ کوئی درد کا مارا

جس جس کو زمانے میں وفا چاٹ رہی ہے

Thursday, 12 November 2020

اب ایسے ویسوں کا ہوتا نہیں ادب مجھ سے

 اب ایسے ویسوں کا ہوتا نہیں ادب مجھ سے

سو اس لیے ہی ہوئے دور لوگ سب مجھ سے

جو خواب دن کے اجالوں میں، میں نے دیکھے تھے

حساب ان کے بھی اب مانگتی ہے شب مجھ سے

وہ میرے پیار کی مقدار جاننے کے لیے

خفا ہوا ہے کئی بار بے سبب مجھ سے