تمہاری یاد کو یکسر بھلانے والا تھا
میں اپنے آپ کو سُولی چڑھانے والا تھا
میں سانس سانس میں محسوس کر رہا تھا جسے
وہ شخص مجھ سے کہاں دور جانے والا تھا
میں مانتا ہوں کہ بخشی ہیں دھڑکنیں اس نے
مگر دلوں پہ ستم کون ڈھانے والا تھا؟
تمہاری یاد کو یکسر بھلانے والا تھا
میں اپنے آپ کو سُولی چڑھانے والا تھا
میں سانس سانس میں محسوس کر رہا تھا جسے
وہ شخص مجھ سے کہاں دور جانے والا تھا
میں مانتا ہوں کہ بخشی ہیں دھڑکنیں اس نے
مگر دلوں پہ ستم کون ڈھانے والا تھا؟
شکم کی آگ بجھانے میں تھک کے بیٹھ گئے
ہم اپنا بوجھ اٹھانے میں تھک کے بیٹھ گئے
اندھیرے جن کے نصیبوں میں تھے اندھیرے رہے
چراغ لوگ جلانے میں تھک کے بیٹھ گئے
غریبِ شہر سہولت سے سو نہیں پائے
نصیب سوئے جگانے میں تھک کے بیٹھ گئے
آنکھ کو روشنی ضروری ہے
مجھ کو اک تُو بڑی ضروری ہے
موت بہتر تھی تجھ سے پہلے اب
مجھ کو یہ زندگی ضروری ہے
تیری باتوں میں لطف ہے، لیکن
چائے کی چُسکی بھی ضروری ہے
پنچھی نے چھت پہ شور مچایا ہے صدقہ دے
مدت کے بعد شخص وہ آیا ہے صدقہ دے
دیکھا مجھے فقیر نے بے ساختہ کہا
تجھ پر کسی کی یاد کا سایہ ہے صدقہ دے
ٹھوکر لگا رہے ہیں جو اپنے تو شکر کر
جینے کا ڈھنگ تجھ کو سکھایا ہے صدقہ دے
سب اپنے مفادات پہ خاموش کھڑے ہیں
ہم تیرے سوالات پہ خاموش کھڑے ہیں
لگتا ہے تمہیں یوں کہ نہیں وار کی طاقت
ہم دوست کسی بات پہ خاموش کھڑے ہیں
پہلے جو سناتے تھے بہت پیار کے قصے
اس وقت شکایات پہ خاموش کھڑے ہیں
جاگتی آنکھ بھی خوابوں سے لپٹ جاتی ہے
یاد تیری مِرے لمحوں سے لپٹ جاتی ہے
ہے مِرے گاؤں کی مٹی کو محبت مجھ سے
چلنے لگتا ہوں تو پیروں سے لپٹ جاتی ہے
سچ ہے تنہائی نہیں دوست بنانی پڑتی
خود بخود درد کے ماروں سے لپٹ جاتی ہے
مان لو تم بھی یار اندھا ہے
میں تو کہتا ہوں پیار اندھا ہے
پھول بھی دیکھ کر ہیں حیرت میں
تم پہ آیا نکھار اندھا ہے
حسن دیکھا نہ تم نے پہلے کبھی
سامنے دیکھ یار اندھا ہے؟
اب ایسے ویسوں کا ہوتا نہیں ادب مجھ سے
سو اس لیے ہی ہوئے دور لوگ سب مجھ سے
جو خواب دن کے اجالوں میں، میں نے دیکھے تھے
حساب ان کے بھی اب مانگتی ہے شب مجھ سے
وہ میرے پیار کی مقدار جاننے کے لیے
خفا ہوا ہے کئی بار بے سبب مجھ سے
گفتگو کرتے ہوئے رات بِتا لی جائے
بات سے ایک نئی بات نکالی جائے
گھر میں دیوار اُٹھانے سے کہیں بہتر ہے
دل سے نفرت کی ہی دیوار گِرا لی جائے
خواب تو خیر حقیقت نہیں ہونے والے
کیوں نہ کچھ دیر کو پھر آنکھ لگا لی جائے
وہ چاہتا تو ہے مجھے مسمار دیکھنا
ممکن نہیں مگر پسِ دیوار دیکھنا
اب اس کے انتظار میں رک ہی گئی گھڑی
وہ آئے گا تو وقت کی رفتار دیکھنا
کانٹوں کا احتساب تو کرنے ہو چل پڑے
کچھ پھولوں کا بھی دوستو کردار دیکھنا
چپ چاپ خموشی کی صدا چاٹ رہی ہے
مجھ کو تِری دوری کی بلا چاٹ رہی ہے
برسات مجھے راس تھی جب ساتھ تِرا تھا
اے دوست مجھے اب یہ گھٹا چاٹ رہی ہے
شکوہ نہیں کرتا وہ کوئی درد کا مارا
جس جس کو زمانے میں وفا چاٹ رہی ہے
اب ایسے ویسوں کا ہوتا نہیں ادب مجھ سے
سو اس لیے ہی ہوئے دور لوگ سب مجھ سے
جو خواب دن کے اجالوں میں، میں نے دیکھے تھے
حساب ان کے بھی اب مانگتی ہے شب مجھ سے
وہ میرے پیار کی مقدار جاننے کے لیے
خفا ہوا ہے کئی بار بے سبب مجھ سے