Tuesday, 1 June 2021

مان لو تم بھی یار اندھا ہے

 مان لو تم بھی یار اندھا ہے

میں تو کہتا ہوں پیار اندھا ہے

پھول بھی دیکھ کر ہیں حیرت میں

تم پہ آیا نکھار اندھا ہے

حسن دیکھا نہ تم نے پہلے کبھی

سامنے دیکھ یار اندھا ہے؟

راستے عشق سے جدا کر لے

جا چلا جا یہ غار اندھا ہے

چھت کا ہونا بھی ایک نعمت ہے

آسماں پر غبار اندھا ہے

بچ کے رہنا حسین قاتل سے

دیکھ کرتا یہ وار اندھا ہے

خود ہے محروم جو بصیرت سے

مجھ کو کرتا شمار اندھا ہے

اس نے دیکھی نہیں غریبی کبھی

یہ مِرا رشتہ دار اندھا ہے

دل نہ شہزاد توڑ دینا کہیں

تم پہ اب انحصار اندھا ہے


شہزاد جاوید

No comments:

Post a Comment