Showing posts with label عابد عالمی. Show all posts
Showing posts with label عابد عالمی. Show all posts

Monday, 19 September 2022

وہ اک نگاہ جو خاموش سی ہے برسوں سے

 وہ اک نگاہ جو خاموش سی ہے برسوں سے

یہ کون جانے وہ کیا کہہ رہی ہے برسوں سے

ہمارے چہروں پہ اب اپنا پن نہیں اُگتا

یہ وہ زمیں ہے جو بنجر پڑی ہے برسوں سے

بدن کا سارا لہو مانگتا ہے وہ اک لفظ

نگاہ ذہن کی جس پر ٹکی ہے برسوں سے

Wednesday, 7 September 2022

جب سے الفاظ کے جنگل میں گھرا ہے کوئی

 جب سے الفاظ کے جنگل میں گھرا ہے کوئی

پوچھتا پھرتا ہے میری بھی صدا ہے کوئی

راہ کی دھول میں ڈوبا ہوا آ پہنچے گا

اپنے ماضی کا پتہ لینے گیا ہے کوئی

رات کے سائے میں اک اجڑے ہوئے آنگن میں

بے صدا ٹھونٹھ کے مانند کھڑا ہے کوئی

Monday, 29 August 2022

جو شخص تجھ کو فرشتہ دکھائی دیتا ہے

 جو شخص تجھ کو فرشتہ دکھائی دیتا ہے

وہ آئینے سے ڈرا سا دکھائی دیتا ہے

کیا تھا دفن جسے فرش کے تلے کل رات

وہ آج چھت سے اترتا دکھائی دیتا ہے

تِری نگاہ میں ممکن ہے کچھ اٹک جائے

مجھے تو صرف اندھیرا دکھائی دیتا ہے

Saturday, 27 August 2022

کیا خبر کب سے پیاسا تھا صحرا

 کیا خبر کب سے پیاسا تھا صحرا

سارے دریا کو پی گیا صحرا

لوگ پگڈنڈیوں میں کھوئے رہے

مجھ کو رستہ دکھا گیا صحرا

دھوپ نے کیا کیا سلوک اس سے

جیسے دھرتی پہ بوجھ تھا صحرا

Sunday, 31 July 2022

تم نے جب گھر میں اندھیروں کو بلا رکھا ہے

 تم نے جب گھر میں اندھیروں کو بُلا رکھا ہے

اٹھ کے سو جاؤ کہ دروازے پہ کیا رکھا ہے

ہر کسی شخص کے رونے کی صدا آتی ہے

پھر کسی شخص نے بستی کو جگا رکھا ہے

اپنی خاطر بھی کوئی لفظ تراشیں یارو

ہم نے کس واسطے یوں خود کو بُھلا رکھا ہے