وہ اک نگاہ جو خاموش سی ہے برسوں سے
یہ کون جانے وہ کیا کہہ رہی ہے برسوں سے
ہمارے چہروں پہ اب اپنا پن نہیں اُگتا
یہ وہ زمیں ہے جو بنجر پڑی ہے برسوں سے
بدن کا سارا لہو مانگتا ہے وہ اک لفظ
نگاہ ذہن کی جس پر ٹکی ہے برسوں سے
وہ اک نگاہ جو خاموش سی ہے برسوں سے
یہ کون جانے وہ کیا کہہ رہی ہے برسوں سے
ہمارے چہروں پہ اب اپنا پن نہیں اُگتا
یہ وہ زمیں ہے جو بنجر پڑی ہے برسوں سے
بدن کا سارا لہو مانگتا ہے وہ اک لفظ
نگاہ ذہن کی جس پر ٹکی ہے برسوں سے
جب سے الفاظ کے جنگل میں گھرا ہے کوئی
پوچھتا پھرتا ہے میری بھی صدا ہے کوئی
راہ کی دھول میں ڈوبا ہوا آ پہنچے گا
اپنے ماضی کا پتہ لینے گیا ہے کوئی
رات کے سائے میں اک اجڑے ہوئے آنگن میں
بے صدا ٹھونٹھ کے مانند کھڑا ہے کوئی
جو شخص تجھ کو فرشتہ دکھائی دیتا ہے
وہ آئینے سے ڈرا سا دکھائی دیتا ہے
کیا تھا دفن جسے فرش کے تلے کل رات
وہ آج چھت سے اترتا دکھائی دیتا ہے
تِری نگاہ میں ممکن ہے کچھ اٹک جائے
مجھے تو صرف اندھیرا دکھائی دیتا ہے
کیا خبر کب سے پیاسا تھا صحرا
سارے دریا کو پی گیا صحرا
لوگ پگڈنڈیوں میں کھوئے رہے
مجھ کو رستہ دکھا گیا صحرا
دھوپ نے کیا کیا سلوک اس سے
جیسے دھرتی پہ بوجھ تھا صحرا
تم نے جب گھر میں اندھیروں کو بُلا رکھا ہے
اٹھ کے سو جاؤ کہ دروازے پہ کیا رکھا ہے
ہر کسی شخص کے رونے کی صدا آتی ہے
پھر کسی شخص نے بستی کو جگا رکھا ہے
اپنی خاطر بھی کوئی لفظ تراشیں یارو
ہم نے کس واسطے یوں خود کو بُھلا رکھا ہے