Thursday, 30 July 2026

آپ کو گر خیال وعدۂ باہم رہے

 آپ کو گر خیالِ وعدۂ باہم رہے

مبتلائے آرزو کیوں مبتلائے غم رہے

کر تڑپنے میں مدد اے دل کہ ٹھانی ہم نے ہے

آج قیدِ غم رہے، یا مبتلائے غم رہے

پھر وہی آشفتگی ہو، پھر وہی دیوانگی

دل پہ یا رب! پھر جنونِ عشق کا عالم رہے

اس پشیمانی پہ قرباں کیا کروں جاں بھی نہیں

میرے مر جانے پہ کوئی مبتلائے غم رہے

پھر وہی رنگِ پرستش ہے وہی طرزِ وفا

پھر کسی کے آستاں پر اپنی گردن خم رہے

تاب لاؤں دید کی کیفی یہ ممکن ہے کہاں

نیّر تاباں کے آگے قطرۂ شبنم رہے


کیفی مہکری

عبدالرشید خان

No comments:

Post a Comment