Sunday, 26 July 2026

وہ ان گنت خط میں نے تمہیں لکھے تھے

 لاعنوان


وہ ان گنت خط

جو کتنی ہی زندگیوں میں

میں نے تمہیں لکھے تھے

اور تم نے ہر ایک خط

مسکراتے ہنستے روتے

کئی کئی بار پڑھا

اور اٹھا کر رکھ دیا

ایک بار اور پڑھنے کو

جیسے یہ خط ہی تمہارا اور میرا سب کچھ ہوں

ان خطوں میں ہم نے کئی رنگ ڈھالے

سفید پاکیزگی سبز تازگی

سرخ تمازت اور نیلی گہرائی

تم اور میں ہر رنگ میں ڈوب کر تیر کر

لڑکھڑاتے اور سنبھلتے رہے

کئی حسین خواب بنے کئی توڑے

پھر ایک دن اچانک

طوفان کے ایک جھونکے سے

پانی کے وہ تمام رنگ

جن میں ہم تم اور میں

اتر کر ڈوبتے اور تیرتے تھے

آگ کے رنگ میں ڈھل گئے

جس میں میرے وہ سارے خط

جل کر راکھ ہو گئے

اور تمہاری آنکھوں میں تیرتے آنسوؤں کے پردہ میں

میں نے ایک دبی سی مسکان

کی پرچھائیں دیکھی


ہربنس مکھیہ

No comments:

Post a Comment